اسوہء انسانِ کامل — Page 226
اسوہ انسان کامل دیگر عشاق وفا 226 آنحضرت کی صحابہ سے محبت اور صحابہ کا عشق رسول حضرت عثمان اور علی سے رسول اللہ ﷺ کی محبت بھی اپنی مثال آپ تھی۔حضرت عثمان کو یکے بعد دیگرے دو بیٹیاں بیاہ دیں اور فرمایا کہ اگر تیسری بیٹی بھی ہوتی تو وہ بھی عثمان کو بیاہ دیتا۔( ابن اثیر ) 11 حضرت علیؓ کے بارہ میں فرمایا۔علی کا میرے ساتھ تعلق ایسے ہے جیسے ہارون کا موسیٰ“ سے۔( بخاری 12 ) نیز فرمایا جسے میرے ساتھ محبت کا تعلق ہے اُسے علی سے بھی محبت کا تعلق رکھنا ہوگا۔( ترمندی ) 13 حضرت عثمان اور علی نے بھی ہمیشہ رسول اللہ کی خاطر فدائیت کے نمونے دکھائے۔حضرت عثمان نے ایک طرف اپنے اموال خدا کی راہ میں بے دریغ خرچ کر کے غنی کا خطاب پایا۔تو دوسری طرف حدیبیہ میں رسول کریم نے اپنے نمائندہ مصلح حضرت عثمان کی خاطر صحابہ سے موت پر بیعت لی اور اپنا ایک ہاتھ دوسرے پر رکھ کر فرمایا یہ عثمان کا ہاتھ ہے۔حضرت علی نے تو روز اول سے ہی رسول اللہ کی تائید و نصرت کی حامی بھری تھی ، جب رسول اللہ نے اللہ کے حکم کے مطابق اپنے خاندان کے لوگوں سے دعوت و تبلیغ کا آغاز کیا تھا، اُس وقت سب اہل خاندان نے انکار کیا سوائے اُس کمسن بچے علی کے جس نے کمزوری کے باوجود مدد کا وعدہ کیا اور پھر زندگی بھر اُسے خوب نبھایا۔ہجرت مدینہ کے وقت حضرت علیؓ نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر رسول اللہ کی جگہ آپ کے گھر میں ٹھہرنا صدق دل سے قبول کیا۔(احمد) 14 امین الامت حضرت ابو عبیدہ بھی انہی وفا شعار عشاق میں سے تھے۔جن کے بارے میں رسول اللہ نے فرمایا کہ ابوبکر و عمر کے بعد ابو عبیدہ مجھے سب سے پیارے ہیں۔حضرت ابوعبیدہ کے عشق رسول کا کڑا امتحان یوں ہوا کہ جنگ اُحد میں مدمقابل لشکر کفار میں آپ کا بوڑھا والد عامر بھی برسر پیکار تھا، ابو عبیدہ ایک بہادر سپاہی کی طرح داد شجاعت دیتے ہوئے میدان کارزار میں آگے بڑھتے چلے جارہے تھے کہ والد سے سامنا ہو گیا جوکئی بار تاک کر آپ کو نشانہ بنانے کی کوشش کر چکا تھا، ذرا سوچئے تو وہ کتنا کٹھن اور جذباتی مرحلہ ہوگا کہ ایک طرف باپ ہے اور دوسری طرف خدا اور اس کا رسول ہیں جن کے خلاف باپ تلوار سونت کر نکلا ہے، مگر دنیا نے دیکھا کہ ابو عبیدہ جیسے قوی اور امین کو یہ فیصلہ کرنے میں کوئی دقت نہیں ہوئی کہ خدا کی خاطر اُن کی سونتی ہوئی شمشیر برہنہ نہیں رکے گی جب تک دشمنان رسول کا قلع قمع نہ کر لے خواہ مد مقابل باپ ہی کیوں نہ ہو۔اگلے لمحے میدان بدر میں ابو عبیدہ کا مشرک والد عامر اپنے موحد بیٹے کے ہاتھوں ڈھیر ہو چکا تھا۔آفرین تجھ پر اے امین الامت آفریں ! تو نے کیسی شان سے حق امانت ادا کیا کہ باپ کا مقدس رشتہ بھی اس میں حائل نہ ہوسکا۔اسی تاریخی موقع پر سورۃ المجادلہ کی آیت 23 اتری جس میں اللہ تعالیٰ ایسے کامل الایمان مومنوں کی تعریف کرتا ہے جو خدا کی خاطر اپنی رشتہ داریاں بھی قربان کر دیتے ہیں۔( ابن حجر ) 15 غزوہ احد میں حضرت ابو عبیدہ کی محبت رسول کا ایک واقعہ حضرت ابو بکر یوں بیان کرتے ہیں کہ اُحد میں سنگباری