اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 5 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 5

اسوہ انسان کامل 5 سوانح حضرت محمد علی مطابق بکریاں چرانے کی بھی توفیق ملی۔اور قریش و ہوازن کے مابین ہو نیوالی جنگ فجار میں اپنے چچاؤں کو تیر پکڑانے کی خدمت انجام دینے کا بھی موقع ملا۔( ابن ہشام) ہیں سال کی عمر میں آپ حلف الفضول کے اس معاہدہ میں بھی باقاعدہ شریک ہوئے جس میں مظلوم کا حق دلانے کا عہد کیا گیا تھا۔اس عہد کا پاس آپ کو زمانہ نبوت میں بھی رہا۔چنانچہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ "اگر آج بھی مجھے کوئی مظلوم اس معاہدہ کی طرف بلائے تو میں اس کی مدد کا پابند ہوں۔“ ( ابن سعد ) معاش اور شادی حضرت محمد سے جوان ہوئے تو ذریعہ معاش کے طور پر اپنے لئے آبائی پیشہ تجارت پسند کیا ، اس سلسلہ میں آپ نے شام، یمن، بحرین اور عرب کے دیگر اطراف کے سفر کئے۔اس دوران جن لوگوں سے بھی آپ کا رابطہ ہوا۔سب آپ کی راست گفتاری، دیانتداری ، امانت ، اور پاپندی عہد کے لئے رطب اللسان تھے آپ کا نام ”امین مشہور ہو گیا۔ان اعلیٰ اخلاق کے ساتھ آپ ایک خوبرو نوجوان اور مردانہ حسن کا اعلیٰ نمونہ تھے۔قد درمیانہ، جسم موزوں، رنگ گورا سرخی مائل ، سر بڑا ، بال کسی قدر خمدار، سینہ فراخ ، ہاتھ پاؤں بھرے بھرے ، ہتھیلیاں چوڑی، چہرہ گول، پیشانی اور ناک اونچی ، آنکھیں سیاہ اور روشن، پلکیں دراز تھیں، چلنے میں وقار تھا۔بات آہستہ فرماتے۔خوشی اور غمی کی حالت آپ کے چہرہ سے عیاں ہو جاتی تھی۔مکہ کی ایک شریف اور مالدار بیوہ خاتون حضرت خدیجہ جو اپنی شرافت کی وجہ سے طاہرہ کے لقب سے مشہور تھیں۔نے حضور ﷺ کی دیانت وسچائی کا شہرہ سن کر پہلے آپ کے ذریعہ اپنا مال تجارت میں لگا یا پھر آپ کے پاکیزہ اخلاق مشاہدہ کرنے کے بعد خود آپ کو شادی کا پیغام بھیجا جو آنحضرت ﷺ نے اپنے چا ابوطالب کے مشورہ سے قبول فرمالیا اور پچیس سال کی عمر میں آپ کی شادی چالیس سالہ حضرت خدیجہ سے ہو گئی۔آنحضرت ﷺ کی تمام اولا د حضرت خدیجہ کے بطن ہوئی سوائے صاحبزادہ ابراہیم کے جو حضرت ماریہ کے بطن سے تھے۔قاسم، طاہر، طیب اور عبد اللہ آپ کے صاحبزادے تھے اور زینب، رقیہ ، ام کلثوم اور فاطمہ صاحبزادیاں۔لڑکے بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے۔تمام صاحبزادیوں کو اسلام قبول کرنے کی توفیق ملی۔ان کی شادی و اولا د بھی ہوئی۔مگر سوائے حضرت فاطمہ اور حضرت علی ہ سے کسی کی نسل معروف نہیں۔حضرت محمد ﷺ کے بچپن سے جوانی تک کے دوران دو مرتبہ کعبہ کی تعمیر نو کا ذکر ملتا ہے۔ایک دفعہ بچپن کے زمانہ میں جب آپ نے کندھے پر پتھر اٹھا کر اس تعمیر میں حصہ لیا۔دوسری دفعہ جوانی میں بعمر 35 سال جب حجر اسود کو اسکی جگہ پر رکھنے کی ہر قبیلہ کی خواہش کا تنازعہ آپ نے خوش اسلوبی سے نمٹایا کہ اپنے دست مبارک سے اس مقدس پتھر کو