اسوہء انسانِ کامل — Page 4
اسوہ انسان کامل 4 سوانح حضرت محمد علی چکا تھا۔آپ کی والدہ نے ایام حمل میں خواب میں دیکھا تھا کہ انکے وجود سے ایک چمکتا ہوا نور نکلا ہے جو دور دراز تک پھیل گیا ہے۔اور ایک فرشتہ ان سے کہتا ہے کہ اس ہونے والے بچے کا نام محمد رکھنا۔آپ کے دادا عبدالمطلب نے اسی خواب کی بناء پر بچے کا نام محمد (ﷺ ) رکھا۔( زرقانی) 3 آپ کی پیدائش کے زمانہ میں آسمان پر غیر معمولی کثرت سے ستارے ٹوٹنے کا نشان بھی دیکھا گیا۔آپ کی پشت کے بائیں جانب پیدائشی طور پر گوشت کے ابھرے ہوئے ایک ٹکڑے کا نشان تھا جو مہر نبوت کے نام سے معروف ہے۔( زرقانی) بچپن لڑکپن شرفاء عرب کے دستور کے مطابق دودھ پلانے کے لئے حضرت محمدیہ قبیلہ بنی سعد کی ایک دیہاتی دایہ حلیمہ کے سپرد کیے گئے۔حسب دستور دو سال کے بعد وہ آپ کو مکہ واپس لے آئی۔مگر ان دنوں مکہ کی آب و ہوا کچھ خراب تھی۔چنانچہ آپ کی والدہ نے آنحضرت ﷺ کو دوبارہ اسکے سپرد کر دیا۔چار سال کی عمر میں وہاں آپ کے ساتھ یہ عجیب واقعہ پیش آیا کہ دو سفید پوش آدمیوں نے آپ کا سینہ چاک کیا اور اس میں سے کچھ نکال کر چلے گئے۔آپ کے رضاعی بھائی نے گھر آکر یہ واقعہ بیان کیا تو حلیمہ گھبرا کر آپ کو مکہ واپس چھوڑ گئیں۔(ابن ہشام)3 شق صدر کا یہ واقعہ در اصل لطیف کشفی نظارہ تھا جو آپ کے رضاعی بھائی نے بھی دیکھا۔جس کی تعبیر آپ کی باطنی پاکیزگی تھی۔آنحضرت ﷺ نے اپنی رضاعی والدہ کی اس خدمت کی قدر کرتے ہوئے ہمیشہ ان کے خاندان سے احسان کا سلوک کیا۔دو سال بعد آپ کی والدہ آپ کو نیبال سے ملانے یثرب لے گئیں۔اس سفر سے واپسی پر ملکہ کے قریب ابواء مقام پر ان کی وفات ہوگئی۔والد کا سایہ تو پہلے ہی سر سے اٹھ چکا تھا۔چھ سال کی عمر میں آپ شفقت مادری سے بھی محروم ہو گئے۔خادمہ ام ایمن نے آپ کو لا کر آپ کے دادا عبد المطلب کے سپر د کیا جنہوں نے اپنی اولاد سے بھی بڑھ کر محبت کے ساتھ آپ کی پرورش کی۔دو سال بعد عبدالمطلب بھی خدا کو پیارے ہو گئے اور آٹھ سال کی عمر میں یہ تیسر ا صدمہ آپ کو برداشت کرنا پڑا۔جس کے نتیجہ میں آنحضرت ﷺ کے اندر ایک خدا پر کامل ایمان و بھروسہ، عزم صمیم اور پیش آمدہ مشکلات ومصائب سے مقابلہ کے لئے ہمت پیدا ہوئی۔دادا کی وصیت کے مطابق آپ کے چا ابو طالب نے آپ کی کفالت کا حق خوب ادا کیا۔بارہ سال کی عمر میں آپ کی ملاقات دوران سفر بھر کی مقام پر ایک عیسائی راہب بحیر ا سے ہوئی۔اس نے آپ کے چچا سے کہا کہ اس بچے کو اہل کتاب کے شر سے محفوظ رکھیں۔لڑکپن کے اسی زمانہ میں رسول کریم ﷺ کو سنت انبیاء کے