اسوہء انسانِ کامل — Page 6
اسوہ انسان کامل 6 سوانح حضرت محمد علی اٹھا کر پہلے اپنی چادر میں رکھا اور تمام سرداروں کو اس کے چاروں کونے پکڑوا کر پہلے اسے اس کی جگہ پر لے گئے پھر اپنے دست مبارک سے ہی اسے اٹھا کر اصل جگہ پر رکھ دیا۔اور قریش کو ایک خطرناک جھگڑے سے بچالیا۔(ابن ہشام)3 حضرت علیؓ اور حضرت زید رسول اللہ ﷺ کی کفالت میں ย حضرت خدیجہ نے شادی کے بعد اپنا سب مال و منال حضور کی صوابدید پر چھوڑ دیا ، اور اپنے غلام زید بن حارثہ کو حضور کی ذاتی خدمت کے لئے وقف کر دیا جو آنحضرت ﷺ کو اپنی وفاداری اور خوبی کے باعث بہت عزیز تھے۔حضرت زید کو بھی آپ سے اتنی محبت ہو گئی کہ جب ان کے والدین منہ مانگی قیمت ادا کر کے انہیں مکہ سے لے جانے کے لئے آئے تو آنحضرت ﷺ کی طرف سے والدین کے ساتھ جانے کے اختیار کے باوجود انہوں نے آپ کی خدمت میں رہنے کو ترجیح دی۔آنحضرت ﷺ زید کو غلامی سے آزاد کر کے عرب دستور کے مطابق انہیں منہ بولا بیٹا بنا کر زید بن محمد پکار نے لگے۔( ابن حجر ) قرآن شریف میں اس کی اصولی ممانعت کے بعد زیڈ اپنے باپ کے نام سے پکارے جانے لگے۔مگر آنحضرت کا تعلق محبت حضرت زید سے ہمیشہ بڑھتا ہی رہا۔کچھ عرصہ بعد آنحضرت نے اپنے چا ابو طالب کی امداد کی خاطر حضرت علی کو اپنی کفالت میں لے لیا۔اب یہ مختصر خاندان آنحضرت ﷺ اور حضرت خدیجہ کے ساتھ حضرت علی اور زیڈ پر مشتمل ہو گیا۔جہاں تک مکہ کے معاشرہ کے ماحول کا تعلق ہے قوم کی اخلاقی حالت دیکھ کر آپ سخت بے چین ہو کر ان کے لئے دعائیں کرتے۔آپ کئی دن کا کھانا لیکر مکہ سے دور حراء نامی ایک پہاڑی غار میں تشریف لے جاتے اور تنہائی میں اللہ کی عبادت کرتے۔اسی زمانہ میں کثرت سے آپ کو رویائے صالحہ شروع ہوئیں۔( بخاری ) 10 پہلی وحی حضرت محمد ﷺ کی عمر جب چالیس برس ہوئی تو ایک روز غار حراء میں عبادت کے دوران ایک فرشتہ حضرت جبرائیل آپ کے سامنے ظاہر ہوا۔یہ رمضان کے بابرکت مہینہ کا آخری عشرہ اور سوموار کا دن تھا۔فرشتے نے آپ سے کہا اقرآ یعنی پڑھ۔آپ نے جواب میں کہا کہ میں تو پڑھ نہیں سکتا یعنی یہ کام میری طاقت سے باہر ہے۔فرشتہ نے آپ کو سینہ سے لگا کر تین مرتبہ زور سے بھینچا اور پھر سورۃ العلق کی یہ آیات آپ کو سنائیں:۔اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقَ اقْرَأْ وَ رَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَم عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ (سورة العلق : 2 تا 6) ترجمہ : پڑھ اپنے ربّ کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا۔اس نے انسان کو ایک چمٹ جانے والے لوتھڑے سے پیدا کیا۔پڑھ، اور تیرا رب سب سے زیادہ معزز ہے۔جس نے قلم کے ذریعہ سکھایا۔انسان کو وہ کچھ سکھایا