اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 178 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 178

اسوہ انسان کامل 178 رسول اللہ کا ایفائے عہد بیوی بچوں کی حفاظت کرتا ہوں اسی طرح تمہاری حفاظت کروں گا۔(ابن ہشام) 9 ادھر ابوسفیان اس معاہدہ شکنی کے نتیجے سے بچنے کیلئے بہت جلد اس یقین کے ساتھ مدینے پہنچا کہ محمد ﷺ کواس بدعہدی کی خبر نہ ہوگی۔اس نے بڑی ہوشیاری سے آنحضرت ﷺ سے بات کی کہ میں دراصل صلح حدیبیہ کے موقع پر موجود ہی نہیں تھا۔آپ میرے ساتھ اس معاہدہ کی از سر نو تجدید کرلیں۔آنحضرت نے کمال حکمت عملی سے پوچھا کہ کیا کوئی فریق معاہدہ توڑ بیٹھا ہے؟ ابو سفیان گھبرا کر کہنے لگا ایسی تو کوئی بات نہیں ہوئی۔رسول کریم نے جواب دیا تو پھر ہم سابقہ معاہدے پر قائم ہیں۔چنانچہ نبی کریم نے بنو خزاعہ کے ساتھ کیا گیا عہد پورا فرمایا اور دس ہزار قد وسیوں کو ساتھ لے کر ان پر ہونے والے ظلم کا بدلہ لینے نکلے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو مکہ کی شاندار فتح عطا فرمائی۔(الحلبیہ ( 10 سراقہ سے ایفاء عہد ہجرت مدینہ کے سفر میں سو اونٹوں کے انعام کے لالچ میں رسول اللہ کا پیچھا کرنے والے سراقہ بن مالک کی روایت ہے کہ جب میں تعاقب کرتے کرتے رسول کریم کے قریب پہنچا تو میرا گھوڑا بار بار ٹھوکر کھا کر گر جاتارہا تب میں نے آواز دے کر حضور کو بلایا اور حضور کے ارشاد پر ابو بکر نے مجھ سے پوچھا آپ ہم سے کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا آپ مجھے امن کی تحریر لکھ دیں ، انہوں نے مجھے چمڑے کے ایک ٹکڑے پر وہ تحریر لکھ دی اور میں واپس لوٹ آیا۔فتح مکہ کے بعد جب حضور جنگ حنین سے فارغ ہو کر جعرانہ میں تھے۔میں حضور سے ملاقات کے لئے حاضر ہوا، حضور انصار کے ایک گھوڑ سوار دستے کے حفاظتی حصار میں تھے، وہ مجھے پیچھے ہٹاتے اور کہتے تھے کہ تمہیں کیا کام ہے؟ حضور اپنی اونٹنی پر سوار تھے، میں نے اپنا ہاتھ بلند کر کے وہی تحریر رسول اللہ ﷺ کو دکھائی اور کہا میں سراقہ ہوں اور یہ آپ کی تحریر امن ہے۔رسول کریم نے فرمایا آج کا دن عہد پورا کرنے اور احسان کا دن ہے۔پھر آپ نے فرمایا سراقہ کو میرے پاس لایا جائے۔میں آپ کے قریب ہوا اور بالآخر آپ سے ملاقات کر کے اسلام قبول کر لیا۔(ابن ھشام ) 11 رسول کریم نے تو مسلمان عورت کے عہد کا بھی پاس کیا۔حضرت ام ہانی بنت ابی طالب نے فتح مکہ کے موقع پر رسول کریم کی خدمت میں عرض کیا کہ انہوں نے اپنے سسرال کے بعض مشرک لوگوں کو پناہ دی ہے۔حالانکہ حضرت علیؓ اس کے خلاف تھے۔رسول کریم نے فرمایا اے ام ہانی ! جسے تم نے امان دیدی اسے ہم نے امان دی۔(ابوداؤد )12 ابو رافع قبطی بیان کرتے ہیں کہ مجھے قریش نے رسول اللہ کی خدمت میں سفیر بنا کر بھیجوایا۔رسول کریم کو دیکھ کر میرے دل میں اسلام کی سچائی گھر کر گئی۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں قریش کی طرف لوٹ کر واپس نہیں جانا چاہتا۔رسول کریم نے فرمایا میں عہد شکنی نہیں کرتا اور نہ ہی سفیر کو روکتا ہوں۔آپ اس وقت بہر حال واپس چلے جاؤ پھر اگر بعد میں یہی ارادہ ہو کہ اسلام قبول کرتا ہے تو وہاں جا کر واپس آجانا۔چنانچہ یہ قریش کے پاس لوٹ کر گئے اور بعد