اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 179 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 179

اسوہ انسان کامل 179 رسول اللہ کا ایفائے عہد میں آکر اسلام قبول کیا۔(ابوداؤد ) 13 یہود مدینہ سے ایفائے عہد نبی کریم نے مکہ سے یثرب ہجرت فرمائی تو اہل مدینہ کے جن گروہوں سے معاہدہ ہوا اس میں یہود کے تین قبائل بنو قینقاع، بنو قریظہ اور بنونضیر شامل تھے۔اس معاہدہ کے مطابق یہود اور مسلمان امت واحدہ کے طور پر ریاست مدینہ کے باسی تھے۔نبی کریم نے ہمیشہ اس معاہدہ کا نہ صرف ایفاء اور احترام فرمایا۔یہود کے حق میں عادلانہ فیصلے فرمائے۔یہود کو مکمل مذہبی آزادی دی اور بعض مسلمانوں نے جب ان کے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام پر رسول کریم کی فضیلت و برتری ظاہر کی جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کی تھی پھر بھی آپ نے معاہد قوم کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے از راه انکسا روا یار یہی فرمایا کہ مجھے موسی پر فضیلت مت دو تا کہ اس کے نتیجہ میں مدینہ کی امن کی فضا خراب نہ ہو۔( بخاری ) 14 15 نبی کریم نے یہودی جنازوں کا بھی احترام کیا اور ان کا جنازہ آتے دیکھ کر کھڑے ہو گئے۔کسی نے کہا کہ یہودی کا جنازہ ہے فرمایا کیا وہ انسان نہیں تھا۔(بخاری) 5 اس کے برعکس یہاں تک مسلسل عہد شکنی کے نتیجہ میں بالآخران کو مدینہ بدر کرنا پڑا۔لیکن رسول اللہ پر بھی کسی یہودی کو عہد شکنی کا الزام تک لگانے کی جرات نہ ہوئی۔(مسلم )16 عیسائیوں سے ایفائے عہد فتح مکہ کے بعد جن مختلف قبائل عرب نے مدینہ آکر صلح و امن کے معاہدے کئے ان میں نجران اور یمن کے عیسائی بھی تھے۔نجران کے عیسائیوں نے معاہدہ صلح کے بعد رسول کریم سے درخواست کی کہ اس معاہدہ کے ایفاء کے لئے آپ اپنا کوئی ایسا نمائندہ مقرر کریں جو دیانتداری سے معاہدہ کی شقوں پر عمل کروائے۔چنانچہ نبی کریم نے حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کو امین الامت“ کا خطاب دیتے ہوئے تکمیل معاہدہ کے لئے نگران مقررفرمایا اور انہوں نے ایفائے عہد کا حق ادا کر دکھایا۔(بخاری) 17 الغرض نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے پابندی عہد میں بھی ایک مثالی نمونہ پیش فرمایا ہے۔