اسوہء انسانِ کامل — Page 3
اسوہ انسان کامل 3 سوانح حضرت محمد علی سوانح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرب قبل از اسلام: ہمارے آقا بانی اسلام حضرت محمد ﷺ چھٹی صدی عیسوی میں اللہ تعالیٰ کی تقدیر خاص اور گزشتہ پیشگوئیوں کے مطابق عرب کے جزیرہ نما ملک میں پیدا ہوئے۔جو ہندوستان کے مغرب میں واقع ہے۔اس زمانہ میں اہل عرب تمدنی دنیا سے الگ وحشیانہ زندگی بسر کر رہے تھے۔شراب خوری ، قمار بازی اور بد کاری عام تھی۔عربوں کی جہالت اور بے جاضر و تعصب کا یہ عالم تھا کہ ذراسی بات پر تلوار میں سونت لی جاتیں اور سالہا سال تک قبائل کے مابین دشمنی اور قتل و غارت کا سلسلہ جاری رہتا۔مظلوم کا کوئی پرسان حال نہ تھا۔عورت کی حالت عرب میں سب سے نازک تھی۔ایک مرد جتنی بیویاں چاہتا، نکاح میں رکھتا۔بعض قبائل تو لڑکی کو باعث نگ و عار سمجھتے ہوئے زندہ درگور کر دیتے تھے۔عورتوں کا حق وراثت اور دیگر حقوق پامال ہو رہے تھے۔عرب کا مذہب بت پرستی تھا۔ان میں تو ہم پرستی کی بناء پر کئی قبیح رسمیں رائج تھیں۔دیگر مذاہب میں سے یہودی، عیسائی ، صابی اور مجوسی بھی بعض عرب علاقوں میں پائے جاتے تھے اس زمانہ کا نقشہ ایک عیسائی مؤرخ سر ولیم میور نے ان الفاظ میں کھینچا ہے۔محمد (ﷺ) کی جوانی کے زمانہ میں عرب ایک بندھی لکیر پر چلنے والے لوگ تھے۔ملک کی حالت ہر قسم کے تغیر اور اصلاح کے سخت مخالف تھی بلکہ اس کی تاریخ میں شاید اس زمانہ سے بڑھ کر کوئی زمانہ نہیں گزرا جب اس کی اصلاح اس وقت سے زیادہ مشکل اور مایوس کن ہو۔۔بت پرستی اور بنو اسماعیل کے تو ہمانہ عقائد کا دریا ہر سمت سے جوش مارتا ہوا کعبہ کی دیواروں سے آ کر ٹکراتا تھا۔( میور )1 امر واقعہ یہ ہے کہ صرف عرب ہی نہیں اس وقت ساری دنیا پر ہی سخت تاریکی کا دور دورہ تھا۔اور سب مذاہب بگڑ چکے تھے۔حضرت محمد ﷺ کی پیدائش بحر و بر میں فساد اور تاریکی کے اس عالم میں سرزمین عرب میں ایک آفتاب طلوع ہوا۔مکہ کے ایک معزز خاندان، قریش میں ، حضرت محمد ﷺ کی ولادت 9 ربیع الاول بمطابق 20 اپریل 571ء میں ہوئی۔( محمود پاشا ) 2 آپ کے والد عبداللہ بن عبدالمطلب اور والدہ آمنہ بنت وہب تھیں۔آپ کا شجرہ نسب اپنے جد امجد عدنان کے واسطہ سے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل تک پہنچتا ہے۔وہ بزرگ باپ بیٹا جنہوں نے دعائیں کرتے ہوئے مکہ میں خدا کے پہلے گھر کی بنیاد رکھی تھی کہ وہ تو حید کا مرکز بنے۔مگر آنحضرت کی ولادت کے وقت وہ بتوں کا گہوارہ بن