اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 130 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 130

130 رسول اللہ کی قبولیت دعا کے راز اسوہ انسان کامل انبیاء کرام کے اس عظیم گروہ میں ایک وہ مرد میدان بھی ہے جس نے اپنے رب کریم کی اطاعت میں اپنا وجود ایسا مایا کہ ا کی رضا اس کی رضا بن گئی۔وہی فخر انسانیت جس نے یہ نعرہ بلند کیا کہ ”میری نمازیں اور قربانیاں اور میرا مرنا اور جینا سب اس اللہ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔تب خدا بھی اس پر خوب مہربان ہوا اور اس دنیا میں اس کی سب مرادیں پوری کیں۔اگلے جہاں میں بھی جب تمام انبیاء کی خدمت میں خدا کے دربار میں شفاعت کرنے کی التماس ہو گی تو سب انبیاء کے عذر کے بعد آپ ہی وہ جری اللہ ہیں جو آگے بڑھیں گے اور اپنے مولیٰ کے حضور سجدہ ریز ہو کر اور گڑگڑا کر اپنے امتیوں کے لئے شفاعت کی اجازت چاہیں گے تب آپ کو یہ مردہ سنایا جائے گا کہ سل تُغطة “ آج آپ جو مانگیں گے عطا کیا جائے گا۔اور پھر کتنے ہی ایسے امتیوں کے حق میں آپ کی شفاعت قبول ہوگی جن کے اعمال صالحہ میں کچھ کمزوریاں بھی رہ گئی تھیں اور وہ سب بخشے جائیں گے۔یقیناً یہی وہ عظیم الشان مقبول دعا ہوگی جس کے بارے میں ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطف معہ فرمایا کرتے تھے کہ ہر نبی کو ایک خاص دعا کی قبولیت کا وعدہ ہوتا ہے اور میں نے وہ دعا اپنی امت کے لئے محفوظ کر رکھی ہے جو روز قیامت اپنے رب سے مانگوں گا۔ہزاروں ہزار درود ہوں اس محسن اعظم پر جنہیں اپنی امت کا اس قدر درد تھا۔( بخاری ) 7 27 حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں دعا کا عرفان اور اس پر سچا ایمان ہمارے سید و مولیٰ محمد مصطفے نے پیدا کیا ، آپ نے ہمیں سکھایا کہ جوتی کا تسمہ بھی مانگنا ہو تو اپنے رب سے مانگو۔آپ کا تو لحہ لحہ دعا تھا اور آپ کی پاکیزہ سیرت قبولیت دعا کے سینکڑوں خوبصورت نمونوں سے بھری پڑی ہے۔جن میں سے چند واقعات کا تذکرہ اس جگہ کیا جا رہا ہے تا کہ قبولیت دعا پر ایمان اور یقین بڑھے اور دعا کے لئے جوش اور جذبے اس طرح پروان چڑھیں جیسے حضرت مریم کے ہاں بے موسم پھل دیکھ کر حضرت زکریا میں دعا کا جوش پیدا ہوا تھا جو بالآخر ان کی قبولیت کا باعث ٹھہرا۔ہم بھر پور یقین اور عزم کے ساتھ اپنے اس مولیٰ سے مانگیں جو اپنے بندوں کے ساتھ گمان کے مطابق ہی سلوک کرتا ہے۔سیرت رسول سے ایسی مقبول دعاؤں کے چند نمونے یہاں پیش ہیں۔ہدایت کیلئے دعا ئیں (1) ہمارے آقا و مولیٰ کا اٹھنا بیٹھنا اور اوڑھنا بچھونا تو دعا ہی تھا، آپ کے ہر کام کا آغاز بھی دعا سے ہی ہوتا تھا اور دعاؤں سے ہی آپ کے کام انجام کو پہنچتے تھے۔مکہ میں جب آپ نے دعوت اسلام کا آغا ز فرمایا اور مخالفت شروع ہوئی تو سرداران قریش میں عمرو بن ہشام ( ابو جہل ) اور عمر بن خطاب جیسے شدید معاندین پیش پیش تھے۔رسول کریم کے دل میں ان شدید دشمنان اسلام کے حق میں محبت اور رحم کے جذبات ہی پیدا ہوئے اور آپ نے خدا تعالیٰ کے حضور یہ دعا کی۔”اے اللہ ! ان دو اشخاص عمر و بن ہشام اور عمر بن الخطاب میں سے کسی ایک کے ساتھ ( جو تجھے پسند ہو ) اسلام کو عزت اور قوت نصیب فرما۔‘ ( ترندی ) 28