اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 131 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 131

131 اسوہ انسان کامل رسول اللہ کی قبولیت دعا کے راز پھر دنیا نے دیکھا کہ ہادی برحق کی دل کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی یہ دعا ایسے حیرت انگیز معجزانہ رنگ میں قبول ہوئی کہ وہی عمر جو گھر سے تلوار لے کر رسول خدا کوقتل کرنے نکلے تھے اسلام کی محبت اور دعا کی تلوار سے گھائل ہو گئے۔(2) جب قریش نافرمانیوں میں حد سے بڑھ گئے اور ان کے ایمان لانے کی صورت نظر نہ آئی۔تب بھی اس رحمتہ للعالمین نے ان کی ہلاکت نہیں مانگی بلکہ بارگاہ الہی میں ایک التجا کی ( جو شاید بظاہر تو بد دعا معلوم ہو لیکن فی الواقع وہ ان کو کسی بڑی سزا اور تباہی سے بچانے کے لئے ایک نہایت حکیمانہ دعا ھی ) آپ نے عرض کیا ”اے میرے مولی ! ان مشرکین مکہ کے مقابلہ پر میری مدد کسی ایسے قحط سے فرما جس طرح حضرت یوسف کی مدد تو نے قحط سالی کے ذریعہ فرمائی تھی۔“ اس دعا میں رحمت و شفقت کا یہ عجیب رنگ غالب تھا کہ ان کو قحط سے ہلاک نہ کرنا بلکہ جس طرح یوسف کے بھائی قحط سالی سے مجبور ہو کر اس نشان کے بعد بالآخر ان پر ایمان لے آئے تھے اس طرح میری قوم کو بھی میرے پاس لے آ۔چنانچہ یہ دعا قبول ہوئی اور مشرکین مکہ کو ایک شدید قحط نے آگھیرا۔یہاں تک کہ ان کو ہڈیاں اور مردار کھانے کی نوبت آئی۔تب مجبور ہو کر ابوسفیان آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اے محمد ! آپ تو صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں۔آپ کی قوم اب ہلاک ہو رہی ہے آپ اللہ سے ہمارے حق میں دعا کریں ( کہ وہ قحط سالی دور فرمائے ) اور بارشیں نازل ہوں ورنہ آپ کی قوم تباہ ہو جائے گی“۔29 رسول کریم نے ابوسفیان کو احساس دلانے کے لئے صرف اتنا کہا کہ ” تم بڑے دلیر اور حوصلہ والے ہو جو قریش کی نافرمانی کے باوجود ان کے حق میں دعا چاہتے ہو۔مگر دعا کرنے سے انکار نہیں کیا کیونکہ اس رحمت مجسم کو اپنی قوم کی ہلاکت ہرگز منظور نہ تھی۔پھر لوگوں نے دیکھا کہ اسی وقت آپ کے ہاتھ دعا کے لئے اٹھ گئے اور اپنے مولیٰ سے قحط سالی دور ہونے اور باران رحمت کے نزول کی دعا کی اور یہ دعا بھی خوب مقبول ہوئی۔اس قدر بارش ہوئی کہ قریش کی فراخی اور آرام کے دن لوٹ آئے۔مگر ساتھ ہی وہ انکار و مخالفت میں بھی تیز ہو گئے۔( بخاری )9 حضور کی دعا سے جب بارشوں کا کثرت سے نزول شروع ہوا تو مسلسل کئی روز تک بارش ہوتی چلی گئی۔مشرکین نے پھر آکر بارش تھم جانے کے لئے درخواست دعا کی اور رسول اللہ کی دعاؤں کے نتیجہ میں بارش تھم گئی۔(سیوطی (30) مگر حیف صد حیف کہ اس نشان کے باوجود قریش انکار و مخالفت سے باز نہ آئے۔(3) مکی دور میں مشرکین مکہ کی مخالفت اور انکار بالاصرار سے تنگ آکر جب ہمارے آقا و مولی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے الہی ارشاد کے مطابق طائف کا قصد فرمایا تو آپ کو زندگی کی سب سے بڑی تکلیف اور اذیت وہاں اٹھانی پڑی۔حضرت عائشہ نے ایک دفعہ آپ سے پوچھا کہ یا رسول اللہ جنگ اُحد ( جس میں آپ شدید زخمی ہوئے اور تکلیف اٹھائی سے زیادہ بھی بھی آپ کو تکلیف برداشت کرنی پڑی ہے؟ رسول اللہ نے فرمایا اے عائشہ میں نے تیری قوم سے بہت تکلیفیں برداشت کیں۔مگر میری تکلیفوں کا سخت ترین دن وہ تھا جب میں طائف کے سردار عبدیالیل کے پاس گیا اور ( پیغام حق پہنچانے کے لئے ) اس سے اعانت اور امان چاہی مگر اس نے انکار کر دیا ( بلکہ شہر کے اوباش آپ کے پیچھے