اسوہء انسانِ کامل — Page 129
129 رسول اللہ کی قبولیت دعا کے راز اسوہ انسان کامل نکلنے کے قریب ہو گیا۔آپ نے مختصر نماز پڑھا کر فرمایا کہ تم لوگ اپنی جگہ بیٹھے رہو۔پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا میں تمہیں آج فجر کی نماز پر دیر سے آنے کی وجہ بتا دوں۔میں رات کو تہجد کے لئے اُٹھا اور جتنی توفیق تھی نماز پڑھی۔نماز میں ہی مجھے اونگھ آگئی۔آنکھ کھلی تو اپنے رب کو نہایت خوبصورت شکل میں دیکھا۔اللہ نے فرمایا اے محمد معلوم ہے فرشتے کس بارہ میں بحث کر رہے ہیں؟ میں نے کہا مجھے معلوم نہیں۔دوبارہ اللہ تعالیٰ نے یہی پوچھا تو میں نے یہی جواب دیا۔پھر میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ہتھیلی میرے کندھے پر رکھی یہاں تک کہ اس کی ٹھنڈک میں نے اپنے سینے میں محسوس کی اور ہر چیز میرے پر روشن ہو گئی۔پھر اللہ نے پوچھا اے محمد فرشتے کس بارہ میں بحث کر رہے ہیں؟ میں نے کہا سفارات کے بارہ میں۔اللہ نے فرمایا کفارات؟ یعنی وہ امور جن سے گناہ دور ہوتے ہیں کان سے ہیں۔میں نے کہا نماز با جماعت کے لئے چل کر مسجد جانا اور نماز کے بعد مسجد میں بیٹھ کر ذکر الہی کرنا اور نا پسندیدگی کے باوجود مکمل وضو کرنا۔پھر اللہ نے پوچھا اور درجات کیا ہیں؟ میں نے کہا کھانا کھلانا ، نرم کلام کرنا اور نماز پڑھنا جب کہ لوگ سوئے ہوں۔تب اللہ نے فرمایا اب مانگو جو مانگتے ہو۔تب میں نے یہ دعا کی۔اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ المَسَاكِينِ، وَأَن تَغْفِرْلِى وَتَرْحَمْنِي، وَإِذَا أَرَدْتْ فِتْنَةٌ فِي قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُون، وَأَسْأَلُكَ حُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ ، وَحُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُنِي إِلَى حُبِّكَ ”اے اللہ! میں تجھ سے نیک کام کرنے اور بری باتیں چھوڑنے کی توفیق چاہتا ہوں۔مجھے مساکین کی محبت عطا کر۔اور مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم کر۔اور جب تو قوم کو فتنہ میں مبتلا کرنے کا ارادہ کرے تو مجھے بغیر فتنہ میں ڈالے موت دے دینا۔میں تجھ سے تیری محبت چاہتا ہوں اور اس کی محبت جس سے تو محبت کرتا ہے اور ایسے عمل کی محبت جو مجھے تیری محبت کے قریب کر دے۔رسول اللہ نے فرمایا یہ دعا برحق ہے اسے خود بھی یاد کرو اور دوسروں کو بھی سکھاؤ۔( احمد ) 26 سیرت النبی قبولیت دعا کے واقعات خدا ایک مخفی خزانہ تھا اس نے چاہا کہ وہ پہچانا جائے سو اس نے انسان کو پیدا کیا اور اپنی ذات وصفات کا عرفان اسے بخشا۔ان صفات میں سے ایک نہایت اہم صفت جو ہستی باری تعالیٰ پر زبر دست گواہ ہے خدا تعالیٰ کا مجیب الدعوات ہونا ہے۔وہ خود اپنی ہستی کا ثبوت دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ وہ کون ہے جو لا چار کی دعائیں سنتا اور اس کی مصیبت دور کرتا ہے کیا خدا کے سوا کوئی اور معبود ہے؟ ( سورۃ النمل: 63) اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں ہوں جو ہر پکارنے والے کی پکار سنتا اور اس کا جواب دیتا ہوں ،شرط یہ ہے کہ یہ دعائیں کرنے والے کامل ایمان کے ساتھ میرے حکم قبول کریں۔(سورۃ البقرہ: 187) دراصل قبولیت دعا کا فلسفہ یہ ہے کہ جتنا کوئی خدا کی باتیں مانتا ہے اسی قدر اس کی سنی اور مانی جاتی ہے۔ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں کی زندگی گواہ ہے کہ ان کا ایک ایک لمحہ دعا کے سہارے گزرا اور تبھی وہ کامیاب و کامران ہوئے۔