اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 99 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 99

اسوہ انسان کامل 99 نبی کریم کی خشیت اور خوف الہی لی۔نبی کریم نے دیکھ لیا۔انگلی بچے کے منہ میں ڈالی، کھجور نکال کر باہر پھینک دی اور فرمایا بچے ! ہم آل رسول ہیں۔ہم صدقہ نہیں کھاتے۔( بخاری )23 ایک دفعہ آنحضرت نماز کے بعد خلاف معمول بڑی تیزی سے صحابہ کی صنفیں چیرتے ہوئے گھر تشریف لے گئے۔تھوڑی دیر بعد واپس تشریف لائے تو ہاتھ میں سونے کی ایک ڈلی تھی۔فرمایا کچھ سونا آیا تھا وہ مستحقین میں تقسیم ہو گیا۔یہ سونے کی ڈلی تقسیم ہونے سے رہ گئی تھی۔نماز میں مجھے خیال آیا تو میں اسے جلدی سے لے آیا ہوں تا کہ قومی مال میں سے کچھ ہمارے گھر میں نہ رہ جائے۔طہارت نفس اور خوف الہی کی یہ کیسی بے نظیر مثال ہے۔( بخاری ) 24 آنحضرت ہر دم اللہ تعالیٰ کے غنا اور عظمت سے خائف رہتے تھے۔فرماتے تھے کہ ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے میں بسا اوقات ستر مرتبہ استغفار کرتا ہوں اور اللہ سے بخشش طلب کرتا ہوں۔( بخاری ) 5 قرآن شریف میں انبیاء علیہم السلام کے قبولیت دعا کے تجارب کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان کی ایک مشترک خصوصیت یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ ہم سے چاہت اور خوف سے دعا کرتے تھے اور ہمارے سامنے عاجزی سے جھکنے والے اور خشوع اختیار کرنے والے تھے۔(سورۃ الانبیاء: 91) سید الانبیاء ﷺ کی دعاؤں میں بھی یہ کیفیت بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔دعاؤں میں گریہ و بکا 25 نبی کریم خوف الہی سے اکثر گریہ وزاری کرتے دیکھے جاتے۔غزوہ بدر کے موقع پر جب آپ کے تین سو تیرہ نہتے ساتھیوں کا مقابلہ ایک ہزار کے مسلح جنگجو لشکر سے تھا، آپ میدان بدر میں اپنے جھونپڑے میں خدا کے حضور سجدہ ریز ہوکر روروکر دعائیں کر رہے تھے، حالانکہ اللہ کی طرف سے فتح ونصرت کے وعدے موجود تھے مگر آپ کی نگاہ اپنے مولیٰ کے غنا پر بھی تھی اسلئے سجدہ میں پڑے گریہ وزاری کر رہے تھے۔بدن پر لرزہ طاری تھا۔کیپکپاہٹ سے کندھوں پر سے چادر سرک کر گر رہی تھی اور آپ اپنے مولیٰ سے یہ التجا کر رہے تھے۔اے اللہ! اگر آج اس مختصر سی جماعت کو تو نے ہلاک کر دیا تو پھر تیری عبادت کون کرے گا۔( مسلم ) 26 حجتہ الوداع کے موقع پر میدان عرفات میں آپ نے خشوع و خضوع خشیت اور ابتہال سے بھری ہوئی جو دعا کی، وہ آپ کے خوف وابتہال اور خشیت کا عجیب شاہکا رہے۔آپ اپنے مولا کے حضور عرض کرتے ہیں۔”اے اللہ تو میری باتوں کو سنتا ہے اور میرے حال کو دیکھتا ہے میری پوشیدہ باتوں اور ظاہر امور سے تو خوب واقف ہے۔میرا کوئی بھی معاملہ تجھ پر کچھ بھی تو مخفی نہیں ہے۔میں ایک بد حال فقیر اور محتاج ہی تو ہوں، تیری مدد اور پناہ کا طالب، سہما اور ڈرا ہوا ، اپنے گناہوں کا اقراری اور معترف ہو کر تیرے پاس چلا آیا ) ہوں میں تجھ سے ایک عاجز مسکین کی طرح سوال کرتا ہوں ( ہاں ! ) تیرے حضور میں ایک ذلیل گناہگار کی طرح زاری کرتا ہوں۔ایک اندھے نابینا کی طرح