اسوہء انسانِ کامل — Page 98
98 نبی کریم کی خشیت اور خوف الہی اسوہ انسان کامل کر لیا اور حضور کے پاس آکر عرض کیا کہ حضور! میں احرام سے نہیں تھا اس لئے آپ کی خاطر یہ شکار کر لیا۔چونکہ محرم کا خود شکار کرنا یا اس کی خاطر کسی کا شکار مارنا بھی جائز نہیں۔حضور نے میرے اس فقرہ کی وجہ سے کہ ”میں نے آپ کی خاطر یہ شکار کیا ہے اُس میں سے کچھ بھی کھانا پسند نہ کیا البتہ اپنے صحابہ کو اس گوشت سے کھانے کی اجازت دے دی۔(ابن ماجہ ) 18 اللہ کے نام کی عظمت اور احترام ایک دفعہ ایک یہودی عالم نے آکر رسول کریم پر اعتراض کیا کہ آپ لوگ کعبہ کی قسم کھا کر شرک کے مرتکب ہوتے ہیں۔ہر چند کہ مسلمان خانہ کعبہ کے بارہ میں کوئی مشرکانہ تصور نہیں رکھتے۔پھر بھی رسول کریم نے از راہ احتیاط یہی ارشاد فر مایا کہ آئندہ سے قسم کھانی ہی پڑے تو کعبہ کی بجائے رب کعبہ کی قسم کھائی جائے۔( احمد )19 حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ کسی صحابی نے رسول اللہ سے عرض کیا کہ مَا شَاءَ اللهُ وشنت کہ وہی ہوگا جو اللہ نے چاہا اور آپ نے چاہا۔رسول کریم نے فرمایا تم نے مجھے خدا کے برابر ٹھہرا دیا۔صرف ماشاء اللہ کہنا چاہیئے کہ یہی کامل توحید ہے۔(احمد) 20 آنحضرت میا اللہ تو کسی بھی معاملہ میں خدا کا نام درمیان آجانے سے ڈر جاتے تھے۔امیمہ بنت شراحیل وہ معزز خاتون ہیں جن کو قبیلہ بنوالجون نے آنحضور سے رشتہ ازدواج قائم کرنے کے لئے آپ کی خدمت میں بھجوایا۔آپ کا ارادہ اُن کو اپنے عقد میں شامل کرنے کا تھا۔( اُن کی ملازمہ نے انہیں کہہ دیا کہ پہلے دن ہی رسول اللہ پر رعب جمالینا )۔آنحضرت ﷺ نے تقریب عقد کی خاطر ایک باغ میں خیمہ لگوا کر انہیں ٹھہرایا۔جب آپ اُن کے پاس خیمہ میں تشریف لے گئے تو ان کی رضامندی معلوم کرتے ہوئے فرمایا تم اپنے آپ کو میرے لئے ہبہ کرتی ہو۔وہ بولی کیا کوئی شہزادی بھی ایک عام شخص کو اپنی ذات ہبہ کرتی ہے۔حضور نے اُسے مانوس کرنے کے لئے اُس کے سر پر ہاتھ رکھنا چاہا تو اُس نے کہا میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔آپ وہیں رک گئے اور فرمایا تم نے بہت عظیم الشان ہستی کی پناہ مانگی ہے۔پھر آپ نے طلاق دے کر اُسے آزاد کر دیا اور مال ومتاع دیکر رخصت کر کے اُس کے قبیلہ میں بھجوادیا۔( بخاری ) 21 تقویٰ کی باریک راہیں آنحضرت ہر لحظہ اپنے رب سے ڈرتے رہتے تھے۔ایک دفعہ فرمایا کہ میں بسا اوقات گھر میں ایک کھجور بستر پر پڑی پاتا ہوں۔اٹھا کر کھانے لگتا ہوں پھر خیال آتا ہے کہ یہ صدقہ کی نہ ہو اور جہاں سے اٹھائی وہیں رکھ دیتا ہوں۔( بخاری )22 رسول اللہ نے اپنی اولاد کی بھی اسی رنگ میں تربیت فرمائی اور ان کے دل میں بھی بچپن سے خوف خدا پیدا کیا۔ایک دفعہ حضرت امام حسن یا حسین نے گھر میں کھجور کا ایک ڈھیر دیکھا اور صدقہ کی ان کھجوروں میں سے ایک کھجور منہ میں ڈال