اسوہء انسانِ کامل — Page 100
100 نبی کریم کی خشیت اور خوف الہی اسوہ انسان کامل ( ٹھوکروں سے ) خوف زدہ تجھ سے دعا کرتا ہوں۔میری گردن تیرے آگے جھکی ہوئی ہے اور میرے آنسو تیرے حضور بہہ رہے ہیں۔میرا جسم تیرا مطیع ہو کر سجدے میں گرا پڑا ہے اور ناک خاک آلودہ ہے۔اے اللہ! تو مجھے اپنے حضور دعا کرنے میں بد بخت نہ ٹھہرا دینا اور میرے ساتھ مہربانی اور رحم کا سلوک فرمانا۔اے وہ ! جو سب سے بڑھ کر التجاؤں کو قبول کرتا اور سب سے بہتر عطا فرمانے والا ہے میری دعا قبول کر لینا۔(طبرانی) 27 قرآن شریف میں ان مومنوں کی تعریف کی گئی ہے جو اپنی نمازوں میں خشوع وخضوع اور عاجزی اختیار کرتے ہیں۔آنحضرت ﷺ کی نماز خشوع کا بہترین نمونہ ہوتی تھی۔چنانچہ نماز کے مرکزی نکتہ رکوع میں آپ یہ دعا بھی پڑھا کرتے تھے۔” میرے اللہ ! تیری خاطر میں نے رکوع کیا اور تجھ پر ایمان لایا اور میں تیرا ہی فرمانبردار ہوں۔اور تجھی پر میرا تو گل ہے۔تو ہی میرا پروردگار ہے۔میرے کان اور میری آنکھیں ، میرا گوشت اور خون ، میری ہڈیاں اور میرا دماغ اور میرے اعصاب اس اللہ کی اطاعت میں جھکے ہوئے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔“ گریہ وزاری اور خشوع و خضوع کی یہ کیفیت آپ کی تنہائی کی نمازوں میں خاص طور پر پائی جاتی تھی۔صحابہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ خدا کے حضور اس طرح گڑ گڑاتے تھے کہ آپ کے سینے سے ایسی آواز سنی جا سکتی تھی جو ہنڈیا کے ابلنے کی آواز سے مشابہ ہوتی تھی۔(نسائی) 28 حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ ایک رات میں نے حضور کو بستر سے غائب پایا تلاش کیا تو مسجد میں تھے۔( اندھیرے میں) میرا ہا تھ آپ کے پاؤں کے تلوے کو چھو گیا۔آپ کے پاؤں زمین پر گڑے ہوئے تھے اور سجدے کی حالت میں مولیٰ کے حضور آپ یہ زاری کر رہے تھے۔”اے اللہ میں تیری ناراضگی سے تیری رضا کی پناہ میں آتا ہوں اور تیری سزا سے تیری معافی کی پناہ میں آتا ہوں۔میں خالص تیری پناہ چاہتا ہوں۔میں تیری تعریف شمار نہیں کر سکتا بے شک تو ویسا ہی ہے جس طرح تو نے خود اپنی تعریف آپ کی ہے۔“ ( ابن ماجہ ) 29 حضرت مطرف اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول خدا کونماز پڑھتے دیکھا۔گریہ وزاری اور بکاء سے یوں ہچکیاں بندھ گئی تھیں گویا چکی چل رہی ہے اور ہنڈیا کے اُبلنے کی آواز کی طرح آپ کے سینہ سے گڑ گڑاہٹ سنائی دیتی تھی۔( ابوداؤد ) 30 حضرت عبداللہ بن عمر حجۃ الوداع کا یہ خوبصورت منظر بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم نے حجر اسود کی طرف منہ کیا۔پھر اپنے ہونٹ اس پر رکھ دیئے اور دیر تک روتے رہے۔پھر اچانک توجہ فرمائی تو حضرت عمر بن الخطاب کو ( پہلو میں کھڑے) روتے دیکھا اور فرمایا اے عمر! یہ وہ جگہ ہے جہاں (اللہ کی محبت اور خوف سے ) آنسو بہائے جاتے ہیں۔(ابن ماجہ ) 31