اسوہء انسانِ کامل — Page 95
اسوہ انسان کامل 95 نبی کریم کی خشیت اور خوف الہی سب سے بڑھ کر خداترس ہمارے نبی ﷺ اول المؤمنین تھے اس لئے سب سے بڑھ کر اپنے مولیٰ کی خشیت آپ میں تھی جس کی وجہ سے آپ ہمیشہ لرزاں وتر ساں رہتے تھے۔ہر چند کہ خدا کی طرف سے پہلی وحی آپ پر ایک عظیم روحانی انعام تھا۔مگر آپ کے لئے یہ بھی مقام خوف تھا اس لئے حضرت خدیجہ سے آکر فرمایا لَقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِی (بخاری (4) مجھے تو اتناڈر پیدا ہوا ہے کہ اپنی جان کے لالے پڑ گئے ہیں۔یہ ذمہ داری کا احساس بھی تھا اور انتہائی خشیت کا اظہار بھی۔ایک دفعہ بعض صحابہ نے دنیا سے بے رغبتی کے اظہار کے طور پر عمر بھر شادی نہ کرنے ،ساری ساری رات عبادت کرنے اور ہمیشہ روزہ رکھنے کے عہد کئے۔رسول کریم نے انہیں اس بات سے روکا اور اپنے نمونہ پر چلنے کی طرف توجہ دلائی نیز فرمایا دیکھو میں نے شادی بھی کی ہے ، رات سوتا بھی ہوں ، عبادت بھی کرتا ہوں، روزے رکھتا بھی ہوں اور اس میں ناغہ بھی کرتا ہوں۔انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! آپ کی کیا بات آپ تو اللہ کے رسول ہیں۔ان کا مطلب تھا ہم کمزور اور گناہگار ہیں ہمیں زیادہ نیکیوں کی ضرورت ہے۔تب آپ نے بڑے جلال سے فرمایا کہ اِن أَتْقَاكُمْ وَأَعْلَمَكُمْ بِاللَّهِ آنَا ( بخاری ) کہ تم میں سب سے زیادہ اللہ کا تقوی اختیار کرنے والا اور اللہ کی معرفت رکھنے والا میں ہوں۔گویا سب سے زیادہ عمل کی مجھے ضرورت ہے اور نجات کے لئے میرے نمونہ کی پیروی تم پر لازم ہے اور یہی امر واقعہ ہے کہ ہمارے نبی ہی سب سے زیادہ خدا ترس انسان تھے۔نبی کریم اکثر اپنی دعاؤں میں یہ دعا مانگا کرتے تھے کہ یا مُقَلبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتُ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ۔اے دلوں کے پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر جمادے اور مضبوط کر دے۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ بھی یہ دعا کرتے ہیں حالانکہ آپ اللہ کے رسول ہیں ( اور ہمیں ہدایت دینے والے) فرمایا ہاں ! دل تو رحمان خدا کی دوانگلیوں کے درمیان ہوتا ہے وہ جیسے چاہے اس کو پھیر دے۔(ترندی) 6 آنحضور کی خدا ترسی کا یہ عالم تھا کہ اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں کوکھول کر سنادیا کہ تمہارے عمل ہی تمہارے کام آئیں گے، میں یا میرے ساتھ تمہارا رشتہ کچھ کام نہیں آئے گا۔(بخاری 7) آپ فرماتے تھے کہ اللہ کی رحمت اور فضل نہ ہو تو میں بھی اپنی بخشش کے بارہ میں قطعیت سے کوئی دعوی نہیں کر سکتا۔( بخاری )8 اللہ تعالیٰ کے غناء سے ہمیشہ آپ کو یہ خوف بھی دامنگیر رہتا تھا کہ نیک اعمال خدا کے حضور قبولیت کے لائق بھی ٹھہرتے ہیں یا نہیں؟ جیسا کہ قرآن شریف میں ذکر ہے کہ بچے مومن وہ ہیں جو اپنے رب کی خشیت کے باعث ڈرتے رہتے ہیں اور اپنے رب کی آیات پر ایمان لاتے ہیں اور یہ لوگ جب دیتے ہیں جو بھی وہ (خدا کی راہ میں ) دیں تو ان کے دل خوف زدہ ہوتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔(المؤمنون : 58 61) حضرت عائشہ کے دل میں ان آیات کے بارہ میں ایک سوال پیدا ہوا اور انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا یہ وہ