اسوہء انسانِ کامل — Page 94
اسوہ انسان کامل 94 نبی کریم کی خشیت اور خوف الہی نبی کریم کی خشیت اور خوف الہی قرآن شریف نے جس خالق کا ئنات اور قادر مطلق ہستی کا ہمیں پتہ دیا ہے، وہ بادشاہ بھی ہے غمنی بھی ، جبار قہار اور متکبر بھی اس عظیم ہستی کے سامنے انسان وہ عاجز مخلوق ہے۔جو ہر لحظہ اس کا محتاج ہے۔اللہ تعالیٰ نے اسے اَحْسَنِ تقویم یعنی بہترین صورت میں اپنی فطرت پر پیدا کیا اور اس کی پیدائش کا مقصد عبودیت ٹھہرایا۔اگر اللہ تعالیٰ کی نصرت اور فضل شامل حال نہ ہو تو انسان فطرت صحیحہ کو چھوڑ کر شیطانی راہوں میں بھٹک جاتا اور أَسْفَلَ السَّافِلِينَ یعنی ذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں گر جاتا ہے۔یہ وہ خوف ہے جو ایک ذی شعور انسان کو بے چین کر دینے کے لئے کافی ہے۔خدا کی ذات پر ایمان کے نتیجہ میں یہ خوف زائل ہوتا اور امید ورجاء کا بندھن مضبوط ہوتا ہے اس لئے ایمان وہی قابل تعریف قرار دیا گیا ہے جو خوف و رجاء کے درمیان ہو۔انسان کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ ہمیشہ در مولیٰ سے چمٹا رہے اور لرزاں وتر ساں اسی کے حضور جھکا ر ہے اور اس کی ناراضگی کے خوف سے ڈرتے ہوئے زندگی گزار دے اس کا نام تقویٰ ہے اور اسی میں انسان کی نجات ہے۔رسول کریم نے فرمایا دو آنکھوں کو آگ نہیں چھوٹے گی ایک وہ آنکھ جواللہ کی خشیت میں روئے اور دوسری وہ آنکھ جو اللہ کی راہ میں حفاظت کرتے ہوئے بیدا ر ر ہے۔(ترمندی )1 حقیقی خشیت یہی ہے کہ انسان محض اللہ تعالیٰ سے ڈرے لا الہ الا اللہ اور کامل توحید کا بھی یہی مطلب ہے۔ایک دفعہ رسول کریم ﷺ نے صحابہ کو یہ نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تم میں سے کوئی اپنے آپ کو حقیر نہ سمجھے انہوں نے کہا یا رسول اللہ وہ کیسے ؟ آپ نے فرمایا اس طرح کہ کسی دینی بات یاللہی کام میں وہ کوئی خامی یا خرابی محسوس کرتا ہے مگر اس پر وہ خاموش رہتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کے روز پوچھے گا تم نے کیوں اپنی رائے کا اظہار نہ کیا وہ کہے گا لوگوں کے ڈرسے ایسا نہ کیا۔اللہ فرمائے گا لوگوں کی نسبت میں اس بات کا زیادہ مستحق تھا کہ تم مجھ سے ڈرتے۔(ابن ماجہ )2 رسول کریم نے اپنے صحابہ میں خشیت الہی کی صفت پیدا کرنے کے لئے ایک دفعہ انہیں یہ کہانی سنائی کہ ایک شخص نے بوقت موت اپنے اہل خانہ کو وصیت کی کہ میری وفات کے بعد لکڑیاں جمع کر کے آگ جلانا جب میں جل کر راکھ ہو جاؤں تو میری خاک سمندر میں ڈال دینا۔اولاد نے اس کی وصیت پر عمل کیا۔اللہ تعالیٰ نے اس کی خاک جمع کی اور اس سے پوچھا تم نے ایسا کیوں کہا؟ اس نے عرض کیا اے میرے رب ! تیرے ڈر اور خوف سے ایسا کیا۔اللہ تعالیٰ نے یہ جواب سن کر اسے بخش دیا۔( بخاری )3