اسوہء انسانِ کامل — Page 96
اسوہ انسان کامل 96 نبی کریم کی خشیت اور خوف الہی لوگ ہیں جو شراب پیتے ، چوری (وغیرہ گناہ) کرتے اور پھر اللہ سے ڈرتے ہیں۔نبی کریم ﷺ تو قرآن کی عملی تفسیر تھے۔آپ سے بڑھ کر کون ان آیات کی حقیقت بیان کر سکتا تھا۔آپ نے کیا خوب فرمایا اے صدیق کی بیٹی ! یہ وہ لوگ ہیں جو روزے رکھتے ، نمازیں پڑھتے اور صدقات دیتے ہیں مگر پھر بھی ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ نیکیاں غیر مقبول ہوکر رڈ ہو جائیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو نیکیوں میں سبقت کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔“ (ترمذی) حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ ایک دفعہ مجھے جہنم کی آگ کا خیال آیا تو میں رو پڑی۔رسول کریم نے رونے کا سبب پوچھا۔میں نے عرض کیا کہ جہنم کی آگ کو یاد کر کے رو پڑی تھی۔معلوم ہوتا ہے اسی وقت حضرت عائشہ کو رسول اللہ اور آپ کی شفاعت کا خیال آیا۔آپ سے پوچھنے لگیں کیا آپ قیامت کے دن اپنے گھر والوں کو یاد کریں گے۔رسول کریم نے فرمایا تین جگہوں پر کوئی کسی کو یاد نہیں کرے گا۔ایک تو حساب کے وقت جب تک یہ پتہ نہ چل جائے کہ اس کا پلڑ اہلکا ہے یا بھاری؟ دوسرے اعمال نامہ دیے جانے کے وقت۔جب تک یہ علم نہ ہو جائے کہ وہ دائیں ہاتھ میں دیا جاتا ہے یا بائیں یا پیچھے سے اور تیسرے پل صراط کے پاس جو جہنم کے سامنے ہوگی۔( احمد ) 10 خدا تعالیٰ کی ناراضگی اور پکڑ کا خوف آنحضور ہمیشہ اس فکر میں رہتے تھے کہ کہیں آپ کا رحیم و کریم خدا آپ سے ناراض نہ ہو جائے۔ایک دفعہ حضور بیمار ہو گئے اور دو یا تین راتیں نماز تہجد کیلئے نہ اُٹھ سکے۔حضرت خدیجہ نے عرض کیا یا رسول اللہ میرے خیال میں آپ کے ساتھی (یعنی جبرائیل" ) کے نزول میں کچھ تاخیر ہوگئی ہے۔حضور کو بھی طبعا فکر ہوئی ہوگی۔چنانچہ سورۃ الضح نازل ہوئی جس میں حضور کو تسلی دیتے ہوئے یہ ارشاد ہے مَاوَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلی کہ تیرے رب نے تجھے چھوڑ انہیں اور نہ وہ تجھ سے ناراض ہوا۔( بخاری ) 11 حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم جب بادل یا آندھی کے آثار دیکھتے تو آپ کا چہرہ متغیر ہو جاتا۔میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! لوگ تو بادل دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ بارش ہوگی۔مگر میں دیکھتی ہوں کہ آپ بادل دیکھ کر پریشان ہو جاتے ہیں۔آپ نے فرمایا اے عائشہ ! کیا پتہ کسی آندھی میں ایسا عذاب پوشیدہ ہو جس سے ایک گزشتہ قوم ہلاک ہوگئی تھی اور ایک قوم (عاد) ایسی گزری ہے جس نے عذاب دیکھ کر کہا تھا کہ یہ تو بادل ہے۔برس کر چھٹ جائے گا۔مگر وہی بادل اُن پر درد ناک عذاب بن کر برسا۔( بخاری )12 قرآن شریف کی جن سورتوں میں عذاب الہی کے نتیجہ میں بعض گزشتہ قوموں کی تباہی کا ذکر ہے۔اُن کے مضامین کا حضور کی طبیعت پر بہت گہرا اثر تھا۔ایک دفعہ حضرت ابوبکر نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ کے بالوں میں کچھ سفیدی سی جھلکنے لگی ہے۔آپ نے فرمایا ہاں سورۃ ہود، سورۃ الواقعہ، سورۃ المرسلات، سورۃ النبا اور سورۃ التکویر وغیرہ نے مجھے بوڑھا کر دیا ہے۔(ترمذی)13