اسوہء انسانِ کامل — Page 70
اسوۃ انسان کامل 70 رسول اللہ کی محبت الہی و غیرت توحید فرض نمازوں کے علاوہ بالخصوص رات کے وقت آپ اللہ تعالیٰ کی گہری محبت سے سرشار ہو کر نہایت خشوع وخضوع سے بہت لمبی اور خوبصورت نماز پڑھا کرتے تھے۔اپنے رب کی عبادت آپ کو ہر دوسری چیز سے زیادہ پیاری تھی۔آپ کے پاس بیک وقت تو بیویاں رہیں اپنی عزیز ترین بیوی حضرت عائشہ کے ہاں آپ کی نویں دن باری آتی تھی۔ایک دفعہ موسم سرما کی سرد رات کو ان کے لحاف میں داخل ہو جانے کے بعد ان سے فرمانے لگے کہ عائشہ ! اگر اجازت دو تو آج رات میں اپنے رب کی عبادت میں گزار لوں۔انہوں نے بخوشی اجازت دے دی اور آپ نے وہ ساری رات عبادت میں بسر کی اور روتے روتے سجدہ گاہ تر کر دی۔(سیوطی )20 توحید کے اقرار کا بھی آپ کو بہت لحاظ تھا۔ایک دفعہ ایک انصاری نے عرض کیا کہ میرے ذمہ ایک مسلمان لونڈی آزاد کرنا ہے۔یہ ایک حبشی لونڈی ہے اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ مومن ہے تو میں اسے آزاد کر دیتا ہوں۔آنحضور نے اس لونڈی سے پوچھا کہ کیا تم گواہی دیتی ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں؟ اس نے کہا ہاں۔آپ نے فر مایا کیا گواہی دیتی ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے کہا ہاں۔فرمایا کیا یوم آخرت پر ایمان لاتی ہو؟ اس نے کہا ہاں۔آپ نے فرمایا اسے آزاد کر دو۔یہ مومن عورت ہے۔( احمد ) 21 قیام توحید رسول اللہ کی شریعت کا پہلا سبق ہی کلمہ توحید لا اله الا اللہ تھا۔یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔آپ کا اوڑھنا بچھونا تو حید ہی تھا۔صبح وشام خدا کی توحید کا دم بھرتے تھے۔دن چڑھتا تو آپ کے لبوں پر یہ دعا ہوتی۔”ہم نے اسلام کی فطرت اور کلمہ اخلاص ( یعنی تو حید ) پر اور اپنے نبی محمد کے دین اور اپنے باپ ابراہیم کی ملت پر صبح کی جو موحد تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔“ ( احمد )22 شام ہوتی تو یہ دعا زبان پر ہوتی۔أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلهِ ”ہم نے اور سارے جہاں نے اللہ کی خاطر شام کی ہے اور تمام تعریف اللہ کے لئے ہے۔اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔بادشاہت اسی کی ہے۔تمام تعریفوں کا وہی مالک ہے اور وہ ہر شے پر قادر ہے۔“ ( مسلم ) 23 کوئی مصیبت در پیش ہوتی تو یہ دعا کرتے۔لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ الْعَظِيمُ الْحَلِیم اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہی عظمت والا اور بردبار ہے۔اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عظیم عرش کا رب ہے۔اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ آسمان اور زمین کا رب ہے۔اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ عرش کریم کا رب ہے۔“ (بخاری) 24 حضرت محمد مصطفے ہی تھے جنہوں نے شرک و بت پرستی کے ماحول میں نعرہ تو حید بلند کیا۔پھر عمر بھر یہ علم تو حید بلند کیے رکھا اور کبھی اس پر آنچ نہ آنے دی۔اس کلمہ توحید کی خاطر ہر طرح کے دکھ اٹھائے ،اذیتیں برداشت کیں ، اپنے