اسوہء انسانِ کامل — Page 69
اسوۃ انسان کامل 69 رسول اللہ کی محبت الہی و غیرت توحید شخص کسی بھی عمل میں میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے تو میں اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہوں۔(مسلم ) 14 حضرت عمر ایک دفعہ مسجد نبوی سے نکلے اور حضرت معاذ بن جبل کو رسول کریم ﷺ کے مزار کے پاس روتے ہوئے پایا۔حضرت عمرؓ نے رونے کا سبب پوچھا۔تو وہ کہنے لگے ایک حدیث یاد آ گئی جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی آپ نے فرمایا تھا کہ ” معمولی ریاء بھی شرک ہے (حاکم 15) رسول کریم بدشگونی کو بھی شرک سے تعبیر فرماتے 16(1) ایک دفعہ رسول اللہ خطبہ ارشاد فرما نے کھڑے ہوئے اور فرمایا ” اے لوگو! جھوٹی گواہی بھی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے۔پھر آپ نے یہ آیت پڑھی۔فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الرُّوُرِ لا حُنَفَاءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِيْنَ بِهِ وَمَنْ يُشْرِكْ باللهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ اَوْ تَهْوِى بِهِ الرِّيحُ فِى مَكَانِ سحيق۔(سورة حج: 32,31) ترجمہ: پس بتوں کی پلیدی سے احتراز کرو اور جھوٹ کہنے سے بچو۔ہمیشہ اللہ کی طرف جھکتے ہوئے اُس کا شریک نہ ٹھہراتے ہوئے اور جو بھی اللہ کا شریک ٹھہرائے گا۔تو گویا وہ آسمان سے گر گیا۔پس یا تو اُسے پرندے اُچک لیں گے یا ہوا اُسے کسی دُور جگہ جا پھینکے گی۔(ترندی) 17 حضرت فروگا بن نوفل الاشجعی رسول کریم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی چیز سکھائیں جو میں رات سوتے ہوئے پڑھا کروں فرمایا سورۃ الکافرون پڑھا کرو۔یہ شرک سے آزاد کرنے والی (سورت) 18 (21)-4 حضرت ابوموسیٰ اشعری بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ شرک سے بچو یہ چیونٹی کے نقش پاسے بھی باریک تر ہے۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیسے بچیں؟ فرمایا یہ دعا پڑھا کرو: - اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُبِكَ مِنْ أَنْ تُشْرِكَ بِكَ شَيْئانَّعْلَمُهُ وَنَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَا نَعْلَمُ (احم )19 ترجمہ:۔اے اللہ ! ہم تیری پناہ میں آتے ہیں اس بات سے کہ تیرے ساتھ جانتے بوجھتے ہوئے کسی کو شریک ٹھہرائیں اور لاعلمی میں ایسا کرنے سے ہم تجھ سے بخشش کے طلبگار ہیں۔رسول اللہ کی عبادات محض اپنے مولیٰ کی رضا کے لئے وقف اور خالص تھیں اور آپ کے دل پر تو حید کی گہری چھاپ کی وجہ سے وہ ہر قسم کے ریاء سے پاک تھیں۔جس پر عرش کے خدا نے بھی یہ گواہی دی کہ اے نبی تو کہہ دے میری نماز، میری قربانیاں ، میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔مجھے اسی امر کا حکم دیا گیا ہے اور میں اُس کا سب سے پہلا فرمانبردار ہوں۔( سورۃ الانعام: 163,164 )