اسوہء انسانِ کامل — Page 67
اسوۃ انسان کامل طرف توجہ کی ہے۔(ابن سعد ) 3 عبادت الہی کی محبت 67 رسول اللہ کی محبت الہی و غیرت توحید الغرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں بچپن سے ہی اپنے خالق و مالک کی محبت بھر دی گئی تھی۔عبادت اور ذکر الہی سے آپ کو خاص شغف تھا ، خلوت پسند تھی۔عین عنفوانِ شباب میں آپ کو نیک اور سچی خوابوں کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔( بخاری )4 جوانی میں آنحضور مہر سال غار حراء میں ایک مہینہ کے لئے اعتکاف فرمایا کرتے اور تنہائی میں اللہ کو یاد کرتے تھے۔جاہلیت میں قریش کی عبادت کا یہ ایک طریق تھا۔جب آپ کا یہ اعتکاف ختم ہوتا تو واپس آکر پہلے خانہ کعبہ کا طواف کرتے پھر گھر تشریف لے جاتے۔جب حضور کو پہلی وحی ہوئی تو یہ رمضان کا ہی مہینہ تھا جس میں آپ غار حراء میں اعتکاف فرمارہے تھے۔(ابن ھشام) 5 اس زمانہ میں مکہ میں گنتی کے چند لوگ تو حید پرست باقی رہ گئے تھے جو دین ابراہیمی پر قائم تھے۔ان میں ایک قابل ذکر شخص زید بن عمر و تھے۔ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان کی ملاقات کے کے قریب بلدح بستی میں ہوئی۔مشرکین کی طرف سے آنحضرت کے سامنے کچھ کھانا پیش کیا گیا۔آپ نے کھانے سے انکار کر دیا۔پھر زید کو کھانا پیش کیا گیا تو انہوں نے بھی یہ کہہ کر کھانے سے انکار کیا کہ تم لوگ اپنے بتوں کے نام پر جانور ذبح کرتے ہو اس لئے میں ہر گز تمہارا کھانا نہ کھاؤں گا ، سوائے اس کھانے کے جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔زید بن عمر وقریش کا ذبیحہ حرام سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ بکری پیدا کرنے والا تو خدا ہے۔اس کے لئے گھاس اُگانے والا بھی وہی ہے۔پھر تم اسے غیر اللہ کے نام پر کیوں ذبح کرتے ہو؟ ( بخاری ) 6 نبی کریم کی پہلی وحی کا آغاز ہی بنیادی طور پر تو حید کے پیغام سے ہوا۔پہلے محض اقرا کے الفاظ پر آپ رکتے رہے مگر جب کہا گیا اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِى خَلَقَ یعنی اپنے اس پیدا کرنے والے پروردگار کے نام سے پڑھیئے جس نے پیدا کیا، تو بے اختیار آپ کی زبان پر یہ الفاظ جاری ہوگئے کیونکہ آپ تو پہلے ہی اپنے خالق و مالک پر فدا تھے۔محبت الہی کی تمنا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت الہی کے نظارے دیکھ کر مکہ کے لوگ سچ ہی تو کہتے تھے عشق مُحَمَّدٌ رَبَّه، کہ محمد تو اپنے رب پر عاشق ہو گیا ہے۔(غزالی )7 اور اس میں کیا شک ہے کہ آپ اپنے رب کے سچے عاشق تھے۔آپ کی محبت کا اظہار نمازوں، عبادات ، دعاؤں اور ذکر الہی سے خوب عیاں ہے۔رسول اللہ کی محبت الہی کا یہ حال تھا کہ حضرت داؤد کی یہ دعا بڑے شوق سے اپنی