اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 66 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 66

اسوۃ انسان کامل 66 رسول اللہ کی محبت الہی و غیرت توحید توحید پرستوں کا بادشاہ کی رسول اللہ کی محبت الہی و غیرت توحید حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شرک و بت پرستی کے تاریک دور میں قیام تو حید کا عظیم الشان کام لیا جانا تھا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے آغاز سے ہی آپ کے دل میں توحید کی محبت اور بت پرستی سے نفرت رکھ دی تھی اور اپنی خاص مشیت سے آپ کو ہر قسم کے شرک سے محفوظ رکھا۔شرک سے نفرت رسول اللہ کی کھلائی ام ایمن بیان کرتی تھیں کہ ”یوانہ وہ بت تھا جس کی قریش بہت تعظیم کرتے تھے۔اُس کے پاس حاضری دے کر قربانیاں گزارتے اور سال میں ایک دن وہاں اعتکاف کرتے تھے۔ابو طالب بھی اپنی قوم کے ساتھ وہاں جاتے اور رسول اللہ کو بھی ساتھ لے جانا چاہتے مگر آپ انکار کر دیتے۔یہاں تک کہ بعض اوقات حضور کی پھوپھیاں اور ابو طالب آپ سے سخت ناراض ہوتے اور کہتے کہ بتوں سے آپ کی بیزاری کے باعث ہمیں آپ کے بارے میں ڈر ہی رہتا ہے۔ایک دفعہ اپنی پھوپھیوں کے اصرار پر آپ وہاں چلے تو گئے مگر سخت خوفزدہ ہو کر واپس آگئے اور کہا کہ میں نے وہاں ایک عجیب منظر دیکھا ہے۔پھوپھیوں نے کہا کہ اتنے نیک انسان پر شیطان اثر نہیں کر سکتا اور پوچھا آپ نے کیا دیکھا ہے؟ آپ نے بتایا کہ جو نہی میں بت کے قریب جانے لگتا تو سفید رنگ اور لمبے قد کا ایک شخص چلا کر کہتا کہ اے محمد ! پیچھے رہو اور اس بت کو مت چھوڑ۔بعد میں پھو پھیوں نے بھی بتوں کے پاس جانے کے لئے یہ اصرار چھوڑ دیا اور اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ آپ کو ایسی مشرکانہ رسوم سے محفوظ رکھا۔( بیہقی ) 1 بچپن میں اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ سفر شام کے دوران عیسائی راھب بحیرای سے ملاقات ہوئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ایک سوال پر فرمایا تھا کہ مجھ سے لات، اور عزئی بتوں کے بارہ میں مت پوچھو، خدا کی قسم ! ان سے بڑھ کر مجھے اور کسی چیز سے نفرت نہیں۔(بیہقتی ) 2 نبی کریم حضرت خدیجہ کا مال تجارت لے کر جب ملک شام گئے تو سودا فروخت کیا۔کسی شخص نے اس دوران آپ سے لات اور مڑی کی قسم لینا چاہی۔آپ نے فرمایا میں نے کبھی آج تک ان بتوں کے نام کی قسم نہیں کھائی اور نہ کبھی ان کی