اسوہء انسانِ کامل — Page 657
657 نبیوں میں سب سے بزرگ اور کامیاب نبی اسوہ انسان کامل حاصل کیا کیا؟ صرف مادی قوتوں کی جمع پونجی؟ وہ تو ان کی آنکھوں کے سامنے لٹ گئی۔بس صرف یہی ایک آدمی ایسا ہے جس نے یہی نہیں کہ فوجوں کو مرتب کیا، قوانین وضع کئے اور مملکتیں، سلطنتیں قائم کیں بلکہ اس کی نظر کیمیا اثر نے لاکھوں متنفس ایسے پیدا کر دئیے ، جو اس وقت کی معلوم دنیا کی ایک تہائی آبادی پر مشتمل تھے اور اس سے بھی آگے بڑھ کر، انہوں نے قربان گاہوں کو ، خداؤں کو ، دین و مذہب کے پیروکاروں کو خیالات و افکار کو ، عقاید و نظریات کو ، بلکہ روحوں کو بدل ڈالا۔پھر صرف ایک کتاب کی بنیاد پر ، جس کا لکھا ہوا ہر لفظ قانون تھا ، ایک ایسی روحانی اُمت کی تشکیل کر دی گئی جس میں ہر زمانے ، وطن ، قومیت کا حامل فرد موجود تھا۔وہ ہمارے سامنے مسلم قومیت کی ایک نا قابل فراموش خصوصیت یہ چھوڑ گئے کہ صرف ایک ان دیکھے، خدا سے محبت، اور ہر معبود باطل سے نفرت۔۔۔عالم الہیات ، فصاحت و بلاغت میں یکتائے روزگار، رسول (بانی مذہب)، آئین و قانون ساز ) شارع، سپه سالار، فاتح اصول و نظریات ، معقول، عقائد کو جلا بخشنے والے، بلا تصویر مذہب کے مبلغ، بیسیوں علاقائی سلطنتوں کے معمار، دینی روحانی حکومت کے موسس ، یہ ہیں محمد رسول اللہ ( جن کے سامنے پوری انسانیت کی عظمتیں بیچ ہیں ) اور انسانی عظمت کے ہر پیمانے کو سامنے رکھ کر ہم پوچھ سکتے ہیں ، ہے کوئی جو اُن سے زیادہ بڑا، اُن سے بڑھ کر عظیم ہو؟ کسی انسان نے اتنے قلیل ترین وسائل کے ساتھ ، اتنا جلیل ترین کارنامہ انجام نہیں دیا، جو انسانی ہمت و طاقت سے اس قدر ماورا تھا۔محمد (ﷺ ) اپنی فکر کے ہر دائر ہے اور اپنے عمل کے ہر نقشہ میں ، جس بڑے منصو بہ کو روبہ عمل لائے ، اُس کی صورت گری بجز اُن کے کسی کی مرہون منت نہ تھی اور مٹھی بھر صحرائیوں کے سوا ان کا کوئی معاون و مددگار نہ تھا اور آخر کار ایک اتنے بڑے مگر دیر پا انقلاب کو برپا کردیا، جو اس دنیا میں کسی انسان سے ممکن نہ ہو سکا۔کیونکہ اپنے ظہور سے لے کر اگلی دوصدیوں سے بھی کم عرصہ میں اسلام، فکر و عقیدہ اور طاقت و اسلحہ دونوں اعتبار سے سارے عرب پر اور پھر ایک اللہ کا پرچم بلند کرتے ہوئے فارس، خراسان، ماوراء النہر، مغربی ہند ، شام، مصر، حبشہ، شمالی افریقہ کے تمام معلوم علاقوں پر بحر متوسط کے جزیروں پر اور اندلس کے ایک حصہ پر بھی چھا گیا۔“ (28) 24۔پروفیسر ٹی ایل وسوانی (1920ء) اپنے فاضلانہ مضمون میں لکھتے ہیں : اعتراض کیا جاتا ہے کہ اسلام تعصب کی تعلیم دیتا ہے۔یہ اعتراض خود غرضانہ حیلہ جوئی اور جہالت کی ایک معجون مرکب ہے۔اسلام کے تو معنی ہی صلح ہیں۔قرآن کریم کے گلستان معانی سے ایک ایک پھول صلح۔خیراندیشی اور محبت کی خوشبو لئے ہوئے اہل بصیرت کی مشام جاں کو معطر کر رہا ہے۔قرآن کریم کی ہر ایک سورت بسم اللہ الرحمن الرحیم کے معنی خیز الفاظ کے ساتھ شروع ہوتی ہے۔اسلامی صحیفہ مقدسہ میں ایک مقام پر مرقوم ہے۔“ اہل کتاب مثلاً عیسائی، یہودی اور مسلمان جو خدا کی وحدانیت اور روح کے غیر فانی ہونے پر ایمان رکھتے ہیں۔خیرات دیتے ہیں اور غرباء لطف و فیض روار کھتے ہیں اور یتیموں کی خبر گیری کرتے ہیں۔اور وہی اصحاب فلاح ہیں۔“ ذہب میں کوئی جبر نہیں یہ قرآن کریم کا ایک حکم ہے۔نبی کریم نے کمال فراخدلی کے ساتھ فرمایا کہ ابراہیم مسلمان تھے۔اس ارشاد نبوی سے کہ ایک پختہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور جسن کے ہاتھوں سے خلق خدا امان میں