اسوہء انسانِ کامل — Page 656
656 نبیوں میں سب سے بزرگ اور کامیاب نبی اسوہ انسان کامل تھی۔پھر کیسے چند ہی سالوں میں اس حالت میں ایک انقلاب پیدا ہو گیا؟ ہاں یہ کیسے ہوا کہ 650ء ( محمد کی بعثت کے بعد ) میں دنیا کا ایک بہت بڑا خطہ پہلے کے مقابل پر ایک مختلف دنیا میں تبدیل ہو گیا۔بلاشبہ یہ تاریخ انسانی کا ایک انتہائی شاندار باب ہے۔پھر یہ انقلاب آگے بڑھا انتہا پرست عیسائیوں اور مستشرقین کی مخالفانہ رائے کے باوجود ان گہرے اثرات میں کوئی کمی نہیں آسکتی جو آپ کی زندگی نے تاریخ عالم پر ثبت کئے۔ماننا پڑتا ہے کہ آپ ( رسول اللہ ) انسان کے بر پا کردہ انقلاب کی اعلیٰ ترین مثال ہیں۔21 لیمر ٹین اپنی کتاب "ہسٹری آف ترکی میں تحریر کرتے ہیں :۔"Philosopher, orator, apostle, legislator, warrior, conqueror of ideas, restorer of rational dogmas; the founder of twenty terrestrial empires and of one spiritual empire, that is Muhammad۔As regards all standards by which human greatness may be measured, we may ask, is there any man greater than he?"(26) فلاسفر، مقرر ، رسول، قانون دان، جنگجو ، ذہنوں کو فتح کرنے والا ، حکمت کے اُصول قائم کرنے والا، ہیں دنیوی سلطنتوں اور ایک روحانی سلطنت کا بانی یہ سب کچھ تھامحمد ( صلی اللہ علیہ وسلم)۔وہ تمام معیار جن سے انسانی عظمت کا پتہ لگایا جاسکتا ہے، ان کے لحاظ سے ہم بجاطور پر یہ سوال کر سکتے ہیں کیا اس ( محمد) سے عظیم تر کوئی انسان (دنیا میں ) ہے؟ 22۔شہنشاہ فرانس نپولین بونا پارٹ (1769-1821ء) نے رسول اللہ کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا:۔محمد اللہ کی ذات ایک مرکز ثقل تھی جس کی طرف لوگ کھنچے چلے آتے تھے۔ان کی تعلیمات نے لوگوں کو اپنا مطیع و گرویدہ بنالیا اور ایک گروہ پیدا ہو گیا جس نے چند ہی سال میں اسلام کا غلغلہ نصف ( معلومہ ) دنیا میں بلند کر دیا۔اسلام کے ان پیروؤں نے دنیا کو جھوٹے خداؤں سے چھڑالیا۔انہوں نے بت سرنگوں کر دیئے۔موسیٰ و عیسی کے پیروؤں نے 15 سو سال میں کفر کی نشانیاں اتنی منہدم نہ کی تھیں جتنی ان متبعین اسلام نے صرف پندہ سال میں کر دیں۔حقیقت یہ ہے کہ محمد کی ہستی بہت ہی بڑی تھی۔“ (27) 23۔فرانسیسی حکمران لا مارٹن(1790-1869ء) رسول اللہ کے پیدا کردہ انقلاب کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔اگر مقصد کی عظمت ، وسائل کی قلت اور حیرت انگیز نتائج ! ان تین باتوں کو انسانی تعقل و تفکر کا بلند معیار مانا جائے تو کون ہے جو تاریخ کی کسی قدیم یا جدید شخصیت کو محمد (ع) کے مقابل پر لانے کی ہمت کر سکے۔لوگوں کی شہرت ہوئی کہ انہوں نے فوجیں بناڈالیں ، قوانین وضع کرائے اور سلطنتیں قائم کر ڈالیں۔لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ انہوں نے