اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 561 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 561

اسوہ انسان کامل 561 رسول اللہ کی حیرت انگیز تواضع اور اللہ کا رسول ہوں۔میں نہیں چاہتا کہ تم لوگ میرا مقام اس سے بڑھا چڑھا کر بتاؤ ، جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہے۔(مسند احمد ) 36 حضرت حسین بن علی سے فرماتے تھے کہ ہم سے بے شک محبت کرو مگر محض اسلامی محبت۔( یعنی اس میں غلو نہ ہو ) کیونکہ نبی کریم فرماتے تھے کہ مجھے میرے حق سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش نہ کرو۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بندہ پہلے بنایا ہے اور رسول بعد میں۔( بیشمی ) 37 ربیع بنت معوذ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ میری شادی کی تقریب میں شرکت کے لئے تشریف لائے۔لڑکیاں ڈھولک کی تھاپ پر گانے گارہی تھیں۔جن میں شہید ہونے والے میرے آباء واجداد کا قصیدہ بھی تھا۔اچانک ان میں سے ایک لڑکی نے حضور کو دیکھ کر فی البدیہہ یہ مصرع کہہ دیا۔وفينا نَبِي يَعْلَمُ مَافِی غَدٍ یعنی ہمارے اندر ایسا نبی موجود ہے جو جانتا ہے کہ کل کیا ہونے والا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فوراً ٹوک دیا اور فرمایا یہ رہنے دو اور وہی کہو جو پہلے کہ رہی تھیں۔( بخاری ) 38 اس میں کیا شک ہے کہ نبی کریم نے اللہ تعالیٰ سے علم پا کر آئندہ کے بارہ میں بے شمار کچی پیشگوئیاں فرمائیں ہیں، جو اپنے وقت پر پوری بھی ہوئیں مگر جب ایک بچی نے ایسا کہنا چاہا تو مبالغہ کے ڈر سے اسے روک دیا۔بشر رسول کا مقام رسول کریم نے اپنا مقام ایک بشر انسان کے طور پر ہمیشہ پیش فرمایا، جسے خدا تعالیٰ نے اپنی وحی سے سرفراز فرما کر نبوت کا مقام عطا کیا۔جتنا علم آپ کو اللہ کی طرف سے ہوتا، آپ اس کا اظہار فرما دیتے تھے۔کوئی کمزوری ہوتی تو اسے اپنی بشریت کی طرف منسوب فرماتے۔حضرت رافع بن خدیج بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم مدینہ تشریف لائے تو اہل مدینہ کھجور کے درختوں کا ”بور (ذرات) مادہ پر بکھیر کر جفتی کا عمل (Polination) کرتے تھے۔آپ نے پوچھا کہ یہ کیا کرتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ یہ ہما را دستور پرانا ہے۔آپ نے فرمایا ایسانہ کرو تو شاید بہتر ہو۔اس پر انہوں نے یہ عمل ترک کر دیا جس کے نتیجہ میں اس سال کھجور کا پھل کم پڑا۔صحابہ نے نبی کریم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا میں بھی ایک انسان ہوں۔میں دین کی جس بات کا حکم دوں اسے اختیار کرو اور اپنی رائے سے کوئی بات کہوں تو میری رائے ایک عام انسان جیسی سمجھو نیز فرمایا کہ دنیا کے معاملات تم بہتر جانتے ہو۔(مسلم ) 39 بعض دفعہ آپ نماز میں رکعتوں کی تعداد بھول گئے اور چار کی بجائے دو پڑھا دیں پھر فرمایا میں بھی تمہاری طرح انسان ہی ہوں۔جس طرح تم بھولتے ہو میں بھی بھول سکتا ہوں۔(ابوداؤد ) 40 رسول کریم عاجزی سے بھری ہوئی یہ دعائیں بھی کرتے تھے اے اللہ میں ایک انسان ہوں جس طرح ایک عام آدمی کو غصہ آجاتا ہے۔مجھے بھی غصہ آتا ہے۔پس اگر کسی مومن بندے کے خلاف میں کوئی بددعا کروں تو اس بددعا کو اس