اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 560 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 560

560 رسول اللہ کی حیرت انگیز تواضع اسوہ انسان کامل عیادت کو بھی تشریف لے گئے۔آپ تغریب اور مسکین لوگوں کے ساتھ بیٹھنے اور مجلس کرنے میں کوئی عار محسوس نہ کرتے تھے۔ایک غریب حبشی لونڈی جو مسجد میں جھاڑو دیتی تھی ، فوت ہو گئی۔صحابہ نے شاید اُسے حقیر جانتے ہوئے رات کے وقت حضور کو جگانا مناسب نہ سمجھا اور اسے دفن کر دیا۔حضور ﷺ کو پتہ چلا تو فرمایا مجھے کیوں اطلاع نہ کی؟ پھر آپ نے خود اس عورت کی قبر پر جا کر دعائے مغفرت کی۔( مسلم )32 رسول کریم اکثر یہ دعا کرتے تھے کہ اے اللہ ! مجھے مسکین بنا کر زندہ رکھنا اسی حالت میں موت دینا اور قیامت کے دن مسکینوں کی جماعت میں اٹھانا۔( ترمذی )33 آنحضور تصحابہ کے ساتھ گھل مل کر بیٹھتے تھے۔اس انکسار کی وجہ سے بعض دفعہ کوئی اجنبی یا مسافر آپکو پہچان نہ سکتا تھا کہ آپ مجلس میں کہاں تشریف فرما ہیں۔صحابہ نے درخواست کر کے مٹی کا ایک چبوترہ آپ کے لئے بنادیا تا کہ آنیوالے مہمان آپ کو نمایاں طور پر پہچان لیں۔آپ کبھی اس چبوترے کے اوپر بیٹھ جاتے تھے اور کبھی انکسار سے اس کے پہلو میں ہی بیٹھ جاتے۔ایک دفعہ آنحضور مجلس میں صحابہ کے درمیان ٹیک لگائے تشریف فرما تھے۔ایک شتر سوار بدو آیا، اس نے مسجد کے ملحقہ حصے میں اونٹ بٹھایا، اس کا گھٹنا باندھ کر ، سادگی سے پوچھنے لگا بھٹی !تم میں محمد کون ہے؟ صحابہ نے جواب دیا، یہ سفید رنگ کے جو ٹیک لگائے بیٹھے ہیں محمد ہیں۔وہ بدو آپ کی خاندانی نسبت سے بلا کر یوں مخاطب ہوتا اور کہتا ہے! اے عبدالمطلب کے بیٹے ! ہمارے آقا کمال تواضع اور انکسار سے جواب دیتے ہیں ” میں حاضر ہوں۔“ وہ بڑ و ( اس جواب سے اور حوصلہ پاکر کہنے لگا۔میں آپ سے کچھ سوال کرتا ہوں اور سوال میں ذرا سختی کرونگا۔آپ مجھ پر ناراض نہ ہوں۔اندازہ کیجئے کہ بڈو کی ایسی درشتی کیسی ہوگی؟ جس کا اُسے خود بھی احساس ہو کہ وہ ناراض کر سکتی ہے۔آنحضور کمال حوصلہ اور تحمل سے فرماتے ہیں کہ جو چاہو پوچھو تب وہ بدو آپ کو رب کی قسم دے کر سوال پوچھتا ہے اور حضوراً سے نہایت انکسار سے جواب دیتے چلے جاتے ہیں۔یہاں تک کہ اس کی تسلی ہوگئی۔( بخاری )34 مبالغہ آمیز تعریف سے کراہت آپ تواضع اور انکساری کے باعث اپنی تعریف پسند نہیں فرماتے تھے۔حد سے زیادہ تعریف کرنے والے کوٹوک دیتے۔صحابہ اور امت مسلمہ کو بھی یہی تعلیم دی کہ میری تعریف میں اس طرح مبالغہ سے کام نہ لینا۔جس طرح عیسائیوں نے مسیح ابن مریم کی ناجائز تعریف کر کے مبالغہ کیا۔فرماتے تھے کہ دیکھو ! میں تو خدا کا ایک بندہ ہوں۔پس مجھے اللہ کا بندہ اور رسول کہو، یہی کافی ہے۔( بخاری )35 حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے آکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا اے محمد ؟ ہم میں سب سے بہترین اور اے ہم میں سے سب سے بہترین لوگوں کی اولاد ! اے ہمارے سردار اور اے ہمارے سرداروں کی اولاد! آپ نے سنا تو فرمایا کہ دیکھ تم اپنی اصلی بات کہو اور کہیں شیطان تمہاری پناہ نہ لے۔میں محمد بن عبد اللہ ہوں