اسوہء انسانِ کامل — Page 562
اسوہ انسان کامل 562 رسول اللہ کی حیرت انگیز تواضع شخص کے حق میں پاکیزگی برکت کا ذریعہ بنادینا۔(احمد) 41 اے اللہ! میں ایک انسان ہوں۔اگر میں نے کسی اور مومن کو کوئی ایذا دی ہو یا بُرا بھلا کہا ہو تو اس بارہ میں مجھ سے بدلہ نہ لینا اور معاف فرما دینا۔(احمد )42 حضرت ابو امامہ باہلی بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول کریم ہمارے پاس تشریف لائے۔آپ اپنی چھڑی کو ٹیکتے ہوئے چلے آرہے تھے۔ہم نے آپ کو دیکھا تو احترام کی خاطر کھڑے ہو گئے۔آپ نے فرمایا جس طرح عجمی لوگ ایک دوسرے کی تعظیم کرتے ہوئے کھڑے ہوتے ہیں۔تم اس طرح میری خاطر کھڑے نہ ہوا کرو۔(ابوداؤد )43 دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان جابر بادشاہوں کی طرز پر جبر رعایا سے اپنی تعظیم کروانی پسند نہیں فرمائی، جو تعظیم نہ کر نیوالوں کو عبرتناک سزائیں دیتے تھے۔گویا آپ نے عقیدت واحترام کی خاطر کھڑے ہونا صحابہ کے لئے اختیاری امرقراردیا، جیسے رسول اللہ خود حضرت فاطمہ کے آنے پر از راہ محبت کھڑے ہو جایا کرتے تھے۔چنانچہ غزوہ بنو قریظہ میں جب حضرت سعدا اپنی خچر پر سوار ہو کر ثالثی فیصلہ کرنے آئے تو آپ نے مسلمانوں سے فرمایا کہ اپنے سردار کے اعزاز کی خاطر کھڑے ہو جاؤ۔گویا عزت کے لئے کھڑے ہونا منع نہیں۔اس کے باوجود یہ آپ کی کمال درجہ کی خاکساری تھی کہ بادشاہ ہو کر بھی اپنی ذات کے لئے شاہانہ انداز پسند نہ فرماتے تھے۔حضرت ابو مسعود بیان کرتے ہیں کہ آنحضور کے پاس ایک شخص آیا آپ اس سے گفتگو فرمارہے تھے۔دریں اثنا اس پر آپ کے رعب و ہیبت سے کپکپی طاری ہوگئی۔آپ نے فرمایا: اطمینان اور حوصلہ رکھو۔گھبرانے کی کوئی بات نہیں میں کوئی (جابر ) بادشاہ نہیں ہوں۔میں تو ایک ایسی عورت کا بیٹا ہوں جو سوکھا گوشت کھایا کرتی تھی۔( ابن ماجہ ) 44 الغرض آپ کی طبیعت جابرانہ نہیں منکسرا نہ تھی۔اللہ کی رحمت خاص نے آپ کا دل نرم کر دیا تھا۔حضرت مسوڑا اپنے والد مخرمہ ( جو آنکھوں سے معذور تھے) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ وہ کہنے لگے مجھے پتہ چلا ہے کہ نبی کریم کے پاس کچھ قمیصیں آئی ہیں آؤ ہم بھی لینے جائیں۔ہم گئے تو نبی کریم گھر میں تھے مجھے ابا نے کہا کہ بیٹے حضور کو آواز دو۔مجھے یہ بات عجیب لگی کہ رسول اللہ کو باہر سے آواز دیکر بلاؤں۔مخرمہ کہنے لگے بیٹے ! نبی کریم ہرگز سخت گیر نہیں ہیں تم بے شک آواز دے کر بلاؤ۔میں نے بلایا تو آپ تشریف لائے۔ایک ریشمی قمیص آپ کے پاس تھا۔جس پر سونے کے بٹن تھے، آپ نے فرمایا مخرمہ اہم نے پہلے ہی یہ قمیص تمہارے لئے بچا کر رکھ لیا تھا۔( بخاری) 45 آنحضور علی محتاجوں اور معذوروں کے ساتھ ان کی سطح پر اتر کر محبت اور نرمی سے پیش آتے۔مدینہ کی دیوانی اور مجنون عورت بھی اسی طرح آپ کی شفقت کی مورد ہوتی جس طرح کوئی اور۔وہ آپ کا ہاتھ پکڑ کر ایک طرف لے جا کر آپ کو اپنی بات سنانا چاہتی ہے اور حضور مبخوشی اس کی خواہش پوری کرتے ہیں۔( بخاری ) 46 رسول کریم غرباء کی ضروریات توجہ سے سنتے اور ان کے لئے دعا کرتے۔ایک حبشی لونڈی مرگی کے دوروں کا شکار تھی۔آپ کی دعا کا آسرا ڈھونڈھ کر آئی اور درخواست دعا کی۔آپ نے اُسے بھی حقیر نہیں جانا اور اسے تسلی دی اور اس کے لئے دعا کی۔(عیاض )47