اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 344 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 344

اسوہ انسان کامل 344 رسول اللہ کی حب الوطنی جگہ مکہ کے بازار میں باب الحناطین کے پاس ہے ) آپ اپنے پیارے وطن مکہ کو مخاطب کر کے فرمانے لگے۔اے مکہ ! خدا کی قسم میں جانتا ہوں کہ تو اللہ کی سب سے بہتر اور پیاری زمین ہے اگر تیرے اہل مجھے یہاں سے نہ نکالتے تو میں ہر گز نہ نکلتا۔“ ( احمد ) 15 معلوم ہوتا ہے یہ بات انصار مدینہ تک بھی پہنچی۔انہوں نے آپس میں سرگوشیاں کیں کہ رسول اللہ پر وطن کی محبت غالب آگئی ہے۔فتح کے بعد شاید رسول اللہ ﷺ اپنے وطن میں ہی ٹھہر جائیں۔نبی کریم کو اس کی اطلاع ہوئی آپ نے انصار کو کوہ صفا پر اکٹھا کر کے فرمایا۔کیا تم نے ایسی بات کہی ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کے جذبہ کے تحت ایسا کہا ہے۔رسول اللہ نے فرمایا کہ اللہ اور اس کا رسول تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور تمہارا عذر قبول کرتے ہیں۔(مسلم 16 ) پھر آپ نے فرمایا کہ اے انصارر مدینہ ! اب میرا جینا مرنا تمہارے ساتھ ہو چکا ہے۔(ابن ہشام ) 17 آخری بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حجتہ الوداع کے موقع پر مکہ تشریف لے گئے۔اس مرتبہ پھر وطن کی یاد میں عود کر آئیں۔عبدالرحمان بن حارث کہتے ہیں میں نے آپ کو اپنی سواری پر بیٹھے یہ کہتے سنا کہ اے مکہ خدا کی قسم تو بہترین وطن اور اللہ کی پیاری زمین ہے۔اگر میں تجھ سے نہ نکالا جاتا تو ہر گز نہ نکلتا۔عبدالرحمان کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے کاش ! اب ہم ایسا کر سکیں اور آپ مکہ لوٹ آئیں یہ آپ کی پیدائش کا مقام اور پروان چڑھنے کی جگہ ہے۔رسول اللہ نے فرمایا ” میں نے اپنے رب سے دعا کی تھی کہ اے اللہ تو نے مجھے اپنی پیاری سرزمین سے نکالا ہے تو اپنی کسی اور محبوب سرزمین میں ٹھکانہ عطا کر۔اب خدا نے مجھے مدینہ میں ٹھکانہ دے دیا ہے۔“ ( حاکم ) 18 مدینہ وطن ثانی پھر جب خدا کی تقدیر نے مدینہ کو آپ کا وطن ثانی بنا دیا تو اس سے بھی محبت اور وفا کا حق ادا کر دکھایا۔اہل مدینہ کی سعادت کہ خدا کے نبی کو خوش آمدید کہا تو ان کے وارے نیارے ہو گئے۔یہ عجیب بات ہے کہ مدینہ اور وہاں کے لوگوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وطن خانی بننے کے بعد اس سے بڑھ کر ملا جو اُن کا حق تھا۔مدینہ کو پہلے میٹرب نام سے یاد کیا جاتا تھا۔جس میں سرزنش کا مفہوم پایا جاتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد یہ شہر مــــديـنـة الرسول یعنی شہر رسول کہلایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم بڑے پیار سے فرمایا کرتے تھے کہ لوگ تو اسے میٹرب کہتے ہیں مگر یہ تو مدینہ ہے جو اس طرح لوگوں کو صاف کرتا ہے جیسے بھٹی لوہے کی میل کو صاف کر دیتی ہے یعنی مدینہ کا پاکیزہ ماحول اور نیک محبتیں اثر انگیز ہیں۔آپ نے شہر مدینہ کی حرمت قائم کی اور فرمایا کہ حضرت ابراہیم نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا اور میں مدینہ کو حرم قرار دیتا ہوں یعنی اس میں جنگ و جدل اور خون خرابہ جائز نہیں۔( بخاری )19