اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 345 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 345

اسوہ انسان کامل مدینہ کے لئے دعائیں 345 رسول اللہ کی حب الوطنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو شروع میں یہاں کی آب و ہوا صحا بہ کو موافق نہ آئی اور ان کو بخار آنے لگا۔تب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے۔”اے اللہ ہمارے دلوں میں مدینہ کی محبت ایسی ڈال دے جیسے مکہ ہمیں محبوب ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر مدینہ کو محبوب کر دے۔اے اللہ ! مدینہ اور اس کے اہل کے رزق میں فراوانی عطا کر اس کی آب و ہوا کو ہمارے لئے صحیح کر دے۔اس کے وبائی بخار کو کہیں دور لے جا اور مدینہ میں مکہ سے دوگنی برکات رکھ دے۔“ ( بخاری ) 20 پھر اس وطن ثانی سے رسول اللہ اور آپ کے صحابہ کو ایسی محبت ہوئی کہ مدینہ سے جدائی طبیعت پر گراں گزرتی تھی۔صحابہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم کسی سفر سے تشریف لاتے اور واپسی پر مدینہ کی دیواروں پر نظر پڑتی تو مدینہ کی محبت کے باعث اپنی سواری کو میٹر لگا کر تیز کر دیتے۔( بخاری ) 21 آخری سالوں میں آپ کتبوک کی مہم کے سلسلہ میں ایک ماہ کے قریب مدینہ سے باہر رہے تھے۔واپس تشریف لاتے ہوئے مدینہ کے ارد گرد کے ٹیلوں کے قریب پہنچے، جو نہی مدینہ پر نظر پڑی عجب وارفتگی کے عالم میں بے اختیار فرمانے لگے۔”هذه طابة لو ہمارا پاک شہر مدینہ آ گیا۔مدینہ آ گیا۔(بخاری (22) آپ پیار سے مدینہ کوطا به یاطیبہ کے نام سے یاد کرتے تھے جس کے معنی پاک اور پاک کرنے والے کے ہیں۔یہ بھی محبت کی نشانی تھی۔اسی طرح رسول کریم جب غزوہ خیبر میں فتح حاصل کرنے کے بعد مدینہ تشریف لا رہے تھے تو مدینہ کے قریب پہنچ کر فرط مسرت میں سواری کو ایڑ لگائی اور تیز کر لیا۔جب دور سے پہاڑ احد پر نظر پڑی تو بے اختیار وادی مدینہ کی محبت میں سرشار ہو کر کہ اٹھے وادی اُحد یعنی مدینہ کو ہم سے محبت ہے اور یہ ہمیں بہت پیاری ہے۔( بخاری ) 23 رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مدینہ سے محبت دیکھ کر حضرت عمر یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ! مجھے موت آئے تو تیرے پاک رسول کے شہر مدینہ میں آئے۔یہ ہیں حب الوطنی کی زندہ جاوید مثالیں اور پاکیزہ نمونے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ رسول کریم کی پاک سیرت کے نمونوں کی روشنی میں وہ ہمیں اپنے وطن کی ایسی سچی محبت عطا کرے، جو ہم وطن کی خاطر خدمت اور قربانی کے سب حق پورے کرنے والے ہوں اور اپنی کسی حق تلفی کے نتیجہ میں اپنے وطن یا اہل وطن کی حق تلفی کرنے والے نہ ہوں۔اگر ہم اور کچھ نہیں کر سکتے تو اپنے وطن کے لئے درد دل سے دعائیں ہی کریں کہ اللہ تعالیٰ خود اس کا محافظ ہو اور جس نام پر یہ سر زمین حاصل کی گئی تھی خدا کرے کہ وہ مقصد حقیقی طور پر پورا ہو۔