اسوہء انسانِ کامل — Page 17
اسوہ انسان کامل 17 سوانح حضرت محمد علی قریش کے تعاقب کے خطرہ کے پیش نظر یہ قافلہ مختصر معروف راستہ چھوڑ کر سمندر کے قریب سے ہوتا ہوا یثرب کی طرف روانہ ہوا۔ادھر قریش نے اعلان کر دیا کہ جو شخص محمد ﷺ کو گرفتار کر کے لائے گا اسے سو اونٹ انعام دیئے جائیں گے۔اس انعام کے لالچ میں جو لوگ گھروں سے نکلے ان میں سراقہ بن مالک بھی تھا جو رسول کریم ﷺ کے قافلہ تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔مگر قریب پہنچ کر اس کا گھوڑا بار بار ٹھوکر کھا کر گرنے لگا اور فال بھی خلاف نکلنے لگی تو اس نے رسول کریم ﷺ سے صلح کی درخواست کی۔آپ نے فرمایا کہ ہمارے متعلق کسی سے ذکر نہ کرنا اور اس کی خواہش پر ایک تحریر امن لکھ کر دی اور بوقت روانگی اسے فرمایا کہ ”سراقہ ! اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا جب کہ شاہ ایران کے سونے کے کنگن تمہارے ہاتھوں میں ہونگے۔یہ پیشگوئی حضرت عمرؓ کے زمانہ میں بڑی شان سے پوری ہوگئی۔الغرض رسول کریم آٹھ روز کے سفر کے بعد 12 ربیع الاول 14 نبوی مطابق 27 جون 622 مدینہ 42 پہنچے۔اسلامی سن کا شمار اسی واقعہ ہجرت سے ہوتا ہے۔(زرقانی) ادھر اہل مدینہ رسول کریم ﷺ کی ہجرت کی اطلاع پاکر آپ کی آمد کے لئے بے چین و بے قرار تھے۔انہوں نے ہتھیار بند ہو کر آپ کا استقبال کیا اور رسول کریم ﷺ مدینہ سے باہر قبابستی میں حضرت کلثوم بن ہرم کے مکان پر ٹھہرئے جہاں تین روز بعد حضرت علیؓ بھی امانتیں ادا کر کے آپ کو آن ملے۔قبا میں پہلا کام رسول کریم ﷺ نے یہ کیا کہ ایک مسجد کی بنیا درکھ دی جو چند روز میں صحابہ کے ہاتھوں مکمل ہو گئی۔بعد میں حضور ﷺ مدینہ سے ہر ہفتہ اس مسجد کی زیارت کے لئے جایا کرتے تھے۔دس بارہ دن قبا میں قیام کے بعد جمعہ کے روز رسول کریم ﷺ یثرب روانہ ہوئے جواب مدینہ الرسول یعنی شہر رسول بننے والا تھا۔بنی عمر و بن عوف میں آپ نے جمعہ کی نماز پڑھائی۔پھر قافلہ دین کی طرف بڑھا۔شہر مدینہ کی عورتیں اور بچے خوشی اور جوش میں گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر یہ گیت گا رہے تھے: طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَيْنَا مِنْ ثَنِيَّاتِ الْوِدَاعِ وَجَبَ الشُّكْرُ عَلَيْنَا مَا دَعَا لِلَّهِ دَاع یعنی آج وداع کی گھاٹیوں سے چودھویں کے چاند نے ہم پر طلوع کیا اور اللہ کی طرف بلانے والے کے بلاوے پر آج ہم پر شکر واجب ہو گیا ہے۔مدینہ کے جس گھر کے پاس سے آپ گزرے۔ہر فدائی کی یہ خواہش تھی کہ آنحضرت ﷺ کو اپنے گھر ٹھہرانے کا فخر اسے حاصل ہو۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا میری اونٹنی کی مہار چھوڑ دو۔جہاں خدا کا منشاء ہوگا یہ بیٹھ جائے گی۔چنانچہ اونٹنی جہاں رکی وہاں قریب ترین گھر حضرت ابوایوب انصاری کا تھا جنہیں چھ ماہ تک رسول اللہ کی میزبانی کا شرف نصیب رہا۔(ابن ہشام) 43