اسوہء انسانِ کامل — Page 18
اسوۂ انسان کامل تعمیر مسجد نبوی 18 سوانح حضرت محمد علی مدینہ میں رسول کریم ﷺ نے پہلا کام مسجد نبوی کی تعمیر کا کیا۔حضور ﷺ کی اونٹنی جس جگہ جا کر بیٹھی تھی وہ زمین دو مسلمان یتیم بچوں کی ملکیت تھی جو ان سے خرید کر مسجد نبوی اور رسول کریم ﷺ کے حجرات یعنی رہائشی کمروں کے لئے استعمال ہوئی۔مسجد کی تعمیر کے ساتھ ہی نماز پر بلانے کے لئے اذان کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔میثرب اب مدینۃ الرسول بن چکا تھا۔یہاں دو مشرک قبائل اوس اور خزرج کے علاوہ یہود کے تین بڑے قبیلے بنو قینقاع، بنونضیر اور بنوقریظہ آباد تھے۔شہر سے باہر یہود کے چھوٹے چھوٹے رہائشی قلعے کچھ فاصلے پر موجود تھے۔اوس وخز رج با هم برسر پیکار رہتے تھے۔خانہ جنگی سے تنگ آکر انہوں نے قبیلہ خزرج کے ایک ہوشیار سردار عبد اللہ بن ابی کو مدینہ کا بادشاہ مقرر کرنے کی تجویز کی تھی جو رسول کریم ﷺ کی مدینہ آمد سے معطل ہو کر رہ گئی۔اوس وختہ رج کے لوگوں نے اسلام قبول کرنا شروع کیا اور جلد اپنی عداوتیں ختم کر کے بھائی بھائی بن گئے۔مدینہ میں یہودی قبائل کے ساتھ محفوظ اور پر امن ماحول رکھنے کے لئے رسول کریم ﷺ نے ایک معاہدہ کیا جسے پہلا تحریری دستور کہا جاسکتا ہے۔اس معاہدہ کی موٹی شرائط یہ تھیں کہ 1۔مسلمان اور یہود ایک امت ہوں گے اور باہم ہمدردی واخلاص سے رہیں گے۔2۔دونوں قوموں کو مذہبی آزادی حاصل ہوگی۔3۔مدینہ پر بیرونی دشمن کے حملہ کی صورت میں سب مل کر دفاع کریں گے۔4۔اگر یہودیا مسلمانوں پر کوئی حملہ آور ہو تو دونوں ایک دوسرے کی مدد کریں گے۔5۔قریش مکہ اور ان کے ساتھیوں کو یہود کی طرف سے کسی قسم کی پناہ یا امداد نہیں ہوگی۔6۔تمام لوگوں کے تنازعات کا فیصلہ ہر قوم کی شریعت کے مطابق رسول کریم ﷺ فرمایا کریں گے۔7۔کوئی ظالم یا فساد بر پا کرنے والا سر ایا انتقام سے محفوظ نہ ہوگا۔اس معاہدہ کے نتیجہ میں مسلمانوں اور یہود کے مابین بہتر تعلقات کے ساتھ مدینہ میں ایک منظم حکومت قائم ہوگئی۔(ابن ہشام ) 44 قریش مکہ نے مدینہ میں آنحضرت ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کی آؤ بھگت دیکھ کر عبداللہ بن ابی کو ایک خط لکھا کہ مسلمانوں کی پناہ سے دستبردار یا حملہ کے لئے تیار ہو جاؤ۔ہم تمہارے مردوں کو تہ تیغ اور عورتوں پر قبضہ کر لیں گے۔( ابوداؤد ) 5 منافق عبداللہ کوتو کوئی بہانہ چاہئے تھا۔وہ فوراً آنحضرت ﷺ کے ساتھ جنگ کے لئے آمادہ ہو گیا مگر آپ نے حکمت عملی سے اسے اس ارادہ سے باز رکھا۔اس تدبیر میں نا کامی کے بعد قریش نے تمام قبائل عرب کو رسول کریم علیہ کے خلاف اس طرح اکسانا 45