اسوہء انسانِ کامل — Page 295
اسوہ انسان کامل 295 آنحضرت الله بحیثیت معلم و مربی اعظم نبی کریم نے انسان کی ہمدردی و خدمت کے حوالہ سے مومن کامل کی مثال کھجور کے درخت سے دی اور ایسے دلچسپ انداز میں پیش فرمائی کہ مجلس کے ہر شخص کے ذہن میں بیٹھ گئی۔پہلے تو پوچھا کہ درختوں میں سے وہ درخت کون سا ہے جس کی کوئی چیز ضائع نہیں ہوتی بلکہ ہر چیز کارآمد ہے۔صحابہ نے جنگل کے سارے درختوں کے نام گنوادیئے مگر یہ پہیلی بوجھ نہ سکے۔حضور نے فرمایا یہ کھجور کا درخت ہے۔جس کی مثال مومن کے وجود سے دی جاسکتی ہے۔( بخاری )32 یعنی جس طرح کھجور کا درخت تن تنہا میدان یا صحراء میں کھڑا آندھیوں طوفانوں کے چھیڑے برداشت کرتا ہے۔اس کا پودا کچھ تقاضا نہیں کرتا مگر دھوپ میں سایہ دیتا ہے، پھل بھی دیتا ہے، اس کے پتے بھی کام آتے ہیں اور تنا بھی۔اسی طرح مومن کا وجود بھی نافع الناس ہوتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بابرکت مجالس اور صحبت بھی تربیت کا بہترین ذریعہ تھے۔ایک دفعہ آنحضرت می کی مجلس میں دو آدمی بیٹھے ہوئے تھے۔ایک کو چھینک آئی حضور نے اس کو " يَرْحَمُكَ الله کہ کرد عادی۔دوسرے کو چھینک آئی تو آپ نے اُسے دعا نہیں دی۔اس نے کہا کہ فلاں کو چھینک آئی تو آپ نے اُسے یہ دعا دی کہ اللہ تجھ پر رحم کرے اور مجھے چھینک آئی تو آپ نے مجھے یہ دعا نہیں دی۔آپ نے فرمایا اس نے الحَمْدُ لِلَّهِ ، کا تھا تو میں نے جوابا " يَرْحَمُكَ اللهُ " کہا اور تم نے " الْحَمدُ لِلَّهِ" نہیں کہا اس لئے میں نے بھی جواب نہیں دیا۔(مسلم ) 33 رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم کی تربیت کرنے والا تو اللہ تعالیٰ کی ذات تھی۔قرآنی تعلیم کے ساتھ ساتھ رویا و کشوف اور وحی کے ذریعہ آداب تربیت کی تعلیم کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔چنانچہ ایک دفعہ نبی کریم نے ذکر فرمایا کہ میں نے رویا میں دیکھا کہ مسواک کر رہا ہوں۔میرے پاس دو آدمی آئے ایک بڑا تھا، دوسرا چھوٹا۔میں ان میں سے چھوٹے کو مسواک دینے لگا تو مجھے کہا گیا کہ بڑے کا خیال کریں۔چنانچہ میں نے بڑے کو مسواک دی۔( بخاری )34 یہی وجہ ہے کہ رسول کریم ہمیشہ بڑوں کے احترام کی تلقین فرماتے تھے۔کھانے پینے کے آداب رسول کریم کی خدمت میں ایک دفعہ پانی پیش کیا گیا۔آپ نے پانی پیا۔دائیں جانب ایک بچہ تھا اور بائیں طرف بزرگ۔آپ نے اس بچے سے کہا کہ کیا تم مجھے اجازت دیتے ہو کہ میں پانی پہلے بزرگ کو دے دوں وہ بچہ کہنے لگا نہیں خدا کی قسم ! میں آپ کے ترک پر کسی اور کو ترجیح نہیں دونگا۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پانی پہلے اس بچے کے ہاتھ میں تھما دیا۔( مسلم ) 35 ایک دفعہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم بعض صحابہ کے ساتھ کھانا تناول فرما رہے تھے۔ایک بد و آیا اور دولقموں میں ہی سارا کھانا چٹ کر گیا۔رسول اللہ نے فرمایا اگر وہ ”بسم اللہ کہتا تو تم سب کیلئے یہ کھا نا کافی ہوتا۔پس کھانے سے 66