اسوہء انسانِ کامل — Page 294
294 آنحضرت سے بحیثیت معلم و مربی اعظم اسوہ انسان کامل پکڑنے کو دوڑ میں مگر وہ کسی کے قابو نہ آئے۔اتنے میں اونٹنی کا مالک آجائے اور کہے میری اونٹنی کو چھوڑ دو۔میں تم سب سے زیادہ اس سے نرمی کا سلوک کر نیوالا ہوں۔پھر وہ اپنی اونٹنی کی طرف متوجہ ہو کر کچھ گھاس لے کر اسے پیچکارے تو وہ اس کی طرف چلی آئے اور اس کے پاس آکر بیٹھ جائے اور وہ اس پر اپنا پالان ڈال کر اسے قابو کر لے۔پھر آپ نے فرمایا جب اس بدو نے کچھ سخت بات کی تھی اس وقت میں تمہیں اس پرختی کرنے دیتا تو یہ ہلاک ہوجاتا۔( ہیمی ) 27 پاکیزه علمی مجالس نبی کریم کی پاکیزہ صحبت اور ہا برکت مجالس تربیت کا بہترین موقع ہوتی تھیں۔اس لئے قرآن شریف میں صادقوں اور راستبازوں کی صحبت اختیار کرنے کا حکم ہے۔(سورة التوبة : 119) قرآن شریف میں دوسری جگہ نبی کی صحبت کو روحانی لحاظ سے زندگی بخش قرار دیا گیا ہے۔(سورۃ الانفال: 25) ایسی پاکیزہ مجالس میں شرکت سے دل میں نرمی پیدا ہوتی اور نصیحت کا اثر ہونے لگتا ہے۔لیکن ان مجالس سے پہلو تہی کے نتیجہ میں دل سخت ہو جاتا ہے۔اسی لئے فرمایا کہ نماز جمعہ اور خطبہ سے ایک ناغہ کرنے سے دل پر ایک نقطہ لگ جاتا ہے پھر مسلسل ایسا کرنے سے دل سیاہ ہو جاتا ہے اور نصیحت قبول کرنے کا مادہ کم ہو جاتا ہے۔(ابن ماجہ ) 28 رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسی نیک مجالس میں شرکت کی تحریک فرماتے تھے۔ایک دفعہ فرمایا کہ ایک مجلس میں تین آدمی آئے۔ان میں سے ایک تو مجلس میں آگے خالی جگہ دیکھ کر توجہ سے بات سننے کے لئے آگے بڑھا دوسرے کو جہاں جگہ ملی پیچھے ہی بیٹھ گیا اور تیسرا پیٹھ پھیر کر واپس چلا گیا۔ان لوگوں پر تبصرہ کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ ان کے رویے کے مطابق خدا نے اُن سے سلوک کیا۔جو آگے بڑھا اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی پناہ میں لے لیا۔دوسرا جو حیا کرتے ہوئے پیچھے ہی بیٹھ گیا۔اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے حیاء و مغفرت کا معاملہ کیا۔جو منہ پھیر کر چلا گیا اللہ نے بھی اس سے منہ پھیر لیا۔( بخاری ) 29 عمدہ مثالوں سے نصیحت اپنی مجالس میں نبی کریم کا سادہ مثالوں اور کہانیوں کے ذریعہ نصیحت کرنے اور بات ذہن نشین کرانے کا ملکہ بہت اعلیٰ درجہ کا تھا۔مثلاً اصلاح معاشرہ کے حوالے سے نیکی کی تحریک کرنے اور برائی سے نہ روکنے کی مثال یوں دی کہ کچھ لوگ کشتی میں سفر کر رہے ہوں۔ان میں سے ایک آدمی کشتی میں سوراخ کرنے لگے اور دوسرے اسے نہ روکیں تو بالآخر کشتی ڈوب کر رہے گی اور سب ہلاک ہوں گے۔(بخاری) 30 یہی حال اس معاشرہ کا ہوتا ہے جہاں بدی سے روکنے اور نیکی کی تحریک کا اہتمام نہیں ہوتا۔اس طرح آپ نے پنجوقتہ نمازوں کی مثال ایک نہر سے دی جس میں پانچ وقت انسان نہائے تو جسم پر میل باقی نہیں رہتی۔فرمایا یہی حال نماز کا ہے جس سے انسان کی بخشش و مغفرت کے سامان ہوتے رہتے ہیں۔( بخاری ) 31