اسوہء انسانِ کامل — Page 13
اسوۃ انسان کامل 13 سوانح حضرت محمد علی مان لوتو اس میں تمہارا ہی فائدہ ہے“۔(ابن ہشام) 29 شعب ابی طالب جب مشرکین مکہ نے دیکھا کہ آنحضرت ﷺ اور آپ کے ساتھی اسلام سے تائب ہونے کے لئے تیار نہیں تو انہوں نے مسلمانوں اور ان کے حامیوں سے ہر قسم کے تعلقات ختم اور خرید وفروخت تک بند کرنے کا فیصلہ کیا۔محرم 7 نبوی میں رؤسائے مکہ کے دستخطوں سے یہ معاہدہ خانہ کعبہ میں لٹکا دیا گیا اور بنو ہاشم اور بنو مطلب کے مسلمان اور غیر مسلم افراد اور دیگر مسلمان شعب ابی طالب میں محصور ہو گئے۔ان ایام میں محصورین کو سخت بھوک اور خوف کا سامنا کرنا پڑا۔حضرت سعد بن ابی وقاص بیان کرتے تھے کہ فاقہ کے ان دنوں مجھے چمڑے کا ایک سوکھا ٹکڑا ملا جسے میں نے پانی سے نرم کر کے صاف کیا اور پھر پیس کر تین دن وہ کھاتا رہا۔(الروض ) 30 بھوک کی وجہ سے مسلمانوں کے بچوں کی چیچنیں نکلتی تھیں۔اس حالت میں تین سال گزر گئے۔ایک دن آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر اپنے چچا ابو طالب سے فرمایا کہ ہمارے خلاف جو معاہدہ لکھا گیا تھا اسے سوائے اس جگہ کے جہاں خدا کا نام ہے ، دیمک کھا چکی ہے۔ابو طالب نے خانہ کعبہ جا کر قریش کے سرداروں کو کہا میرے بھتیجے نے مجھے بتایا ہے کہ خدا نے اس ظالمانہ معاہدہ کی ساری تحریر کو سوائے اپنے نام کے مٹا دیا ہے۔جب معاہدہ دیکھا گیا تو آنحضرت یہ کی بیان فرمودہ بات بالکل درست نکلی۔اس پر چند انصاف پسند اور رحم دل سردار بھی بول اٹھے کہ اب یہ معاہدہ ختم کر دینا چاہیے۔ابو جہل نے کچھ حیل و حجت کرنا چاہی مگر مطعم بن عدی نے وہ بوسیدہ کاغذ چاک کر دیا اور مسلمان ہتھیار بند ہو کر شعب ابی طالب سے باہر آ گئے۔یہ واقعہ بعثت نبوی کے دسویں سال کا ہے۔شق القمر کا واقعہ بھی محاصرہ شعب ابی طالب کے دوران ظاہر ہوا تھا۔(ابن ہشام ) 31 محاصرہ ختم ہونے کے بعد اسلام کا پیغام اردگرد کے قبائل میں پہنچتارہا اور دوس قبیلہ کا سردار طفیل مسلمان ہو گیا۔اسی زمانہ میں معراج کا واقعہ ہوا۔اور رسول کریم ﷺ کو اس روحانی سیر میں آئندہ اپنی امت کی ترقی کے نظارے کروائے گئے۔(ابن ہشام ) 32 عام الحزن ابوطالب اور حضرت خدیجہ جو پہلے ہی ضعیف العمر تھے اور محصوری کے زمانہ میں ان کی صحت اور زیادہ بگڑ گئی شعب ابی طالب سے باہر آنے کے بعد یکے بعد دیگرے ان کی وفات ہوگئی۔آنحضور ﷺ کوانکی وفات کا اتنا صدمہ ہوا کہ یہ سال مسلمانوں میں عام الحزن یعنی غم کے سال سے یاد کیا جانے لگا۔حضرت خدیجہ اور ابو طالب کی وفات کے بعد قریش کے مظالم میں نمایاں اضافہ ہو گیا۔اور آنحضر