اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 188 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 188

اسوۃ انسان کامل 188 آنحضرت کا حسن معاملہ اور بہترین اسلوب تجارت حضرت عروہ بارقین کو ایک دینار دے کر بغرض تجارت بھیجوایا کہ ایک بکری خرید کر لائیں ، انہوں نے کمال ذہانت سے مدینہ کے باہر دیہات میں جا کر ایک دینار کی دو بکریاں خرید کرلیں پھر مدینہ آکر ایک بکری ایک دینار میں فروخت کر دی اور آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر ایک دینار اور بکری دونوں پیش کر دیئے۔سارا قصہ بھی کہہ سنایا ہوگا۔رسول اللہ اپنے غلام کی اس ذھانت پر بہت خوش ہوئے اور ان کی تجارت میں مزید برکت کے لئے خاص طور پر دعا کی۔جس کا ایسا اثر ہوا کہ اگر وہ مٹی بھی خریدتے تو اس میں بھی نفع پاتے۔(بخاری) 23 آنحضرت ﷺ نے حضرت حکیم بن حزام کو بھی ایک دینار دے کر قربانی کا جانور خریدنے کے لئے بھجوایا۔انہوں نے ایک جانور خرید کر اس میں ایک دینار کا نفع کمایا۔پھر ایک اور قربانی دینار کی خریدی اور رسول کریم کی خدمت میں دینار اور بکری لے کر حاضر ہو گئے۔رسول کریم نے فرمایا بکری ذبح کر دو اور دینار صدقہ میں دے دو۔(ترمذی )24 بیچا دیانتداری کا اجر آنحضرت اپنے صحابہ کی تربیت کی خاطر تجارت میں امانت و دیانت کی خاص تلقین فرماتے۔ایک دفعہ آپ نے ایک شخص کی بددیانتی اور دھوکہ دہی کی سزا کا دلچسپ اور عبرت آموز واقعہ سنایا جو دریا میں چلنے والی ایک کشتی میں شراب پا کرتا تھا اور اس میں پانی بھی ملا دیتا تھا۔اس نے ایک بندر بھی پال رکھا تھا ایک دن اس کا بندر اس کی دیناروں سے بھری تھیلی لے کر کشتی کے بادبان پر جا بیٹھا اور ایک دینار پانی میں اور ایک کشتی میں پھینکنے لگا۔یہاں تک کہ تھیلی خالی کر دی اور یوں اس نے دیناروں کو برابر تقسیم کر دیا۔(پانی کا حصہ پانی میں او تاجر کا حصہ کشتی میں )۔(مسند احمد ) 25 ایک اور موقع پر آنحضرت ﷺ نے بنی اسرائیل کے دو افراد کی حسن نیت اور ادائیگی فرض میں دیانتداری ، ایفائے عہد اور اس کی برکت کا یہ واقعہ اپنے صحابہ کو ستایا کہ بنی اسرائیل کے ایک آدمی نے دوسرے سے ہزار دینار قرض مانگا، اس نے گواہ کا مطالبہ کیا ، قرض لینے والے نے کہا کہ اللہ کافی گواہ ہے، پھر اس نے ضمانت مانگی تو قرض لینے والے نے کہا اللہ کافی ضامن بھی ہے ، قرض دینے والے نے کہا تم سچ کہتے ہو۔پھر اسے ایک مقررہ مدت تک کے لئے ہزار دینار قرض دے دیئے۔وہ شخص تجارت کی غرض سے سمندری سفر پر روانہ ہو گیا۔اپنی ضرورت پوری کرنے کے بعد اس نے سواری کی تلاش کی تاکہ مقررہ میعاد تک واپس پہنچ سکے۔مگر اسے بر وقت سواری نہ ملی ، تب اس نے ایک لکڑی لے کر اسے اندر سے کھوکھلا کیا اور اس میں ہزار دینار کے ساتھ ایک خط قرض خواہ کے نام لکھا اور لکڑی کا منہ بند کر کے اسے سمندر کے حوالے کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کو مخاطب کر کے عرض کیا اے اللہ تو جانتا ہے کہ میں نے فلاں شخص سے ایک ہزار دینار قرض مانگے اس نے گواہ اور ضامن مانگا تو میں نے کہا کہ اللہ ہی گواہ اور ضامن ہے اب میں نے سواری لینے کی پوری کوشش کی ہے جس کے ذریعہ بروقت یہ قرض ادا کر سکوں اب میں یہ امانت تیرے سپر د کرتا ہوں۔‘ اس کے بعد وہ واپس اپنے وطن جانے کے لئے سواری کے انتظار میں رہا۔دوسری طرف قرض خواہ مقررہ میعاد پر قرض لینے کے لئے نکلا کہ شاید کوئی سواری اس کا مال لے آئے ، اچانک اسے وہ لکڑی نظر آئی جو اس نے ایندھن کے طور پر اٹھالی۔مگر جب گھر جا کر اسے پھاڑا تو اس میں اپنا مال اور خط موجود پایا۔پھر جیسے ہی اس مقروض کو موقع ملاوہ ہزار دینار لے کر قرض خواہ کے