اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 187 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 187

اسوۃ انسان کامل 187 آنحضرت کا حسن معاملہ اور بہترین اسلوب تجارت فرمایا : اس میں سے کچھ کا کھانا خرید و اور کچھ سے کپڑا۔پھر فرمایا کہ ” خود کمانا تمہارے لئے بہتر ہے بنسبت اس کے کہ تم قیامت کے روز ایسی حالت میں حاضر ہو کہ مانگنے کا داغ تمہارے چہرہ پر ہو۔مانگنا درست نہیں سوائے اس کے جو انتہائی محتاج ہو یا سخت مقروض ہو۔(ابن ماجہ ) 18 رسول اللہ ﷺ کے تربیت یافتہ ایک اور مخلص صحابی حضرت عبدالرحمن بن عوف نے بھی ہجرت مدینہ کے وقت ایسی ہی عمدہ مثال قائم کر کے دکھائی وہ ایک صاحب حیثیت تاجر تھے۔مگر جب مکہ سے مدینہ تشریف لائے تو تہی دامن تھے کہ اپنا مال اور گھر بار سب کچھ خدا کی راہ میں فدا کر کے معیت و صحبت رسول کو مقدم کر چکے تھے۔ایک مالدار انصاری حضرت سعد بن ربیع ان کے اسلامی بھائی بنائے گئے۔انہوں نے بھی حق اخوت کی حیرت ناک مثال قائم کر کے دکھائی۔اپنا نصف مال اپنے بھائی کی خدمت میں پیش کر دیا۔حتی کہ اپنی دو بیویوں میں سے ایک کو طلاق دے کر نکاح کی بھی پیشکش کر دی۔حضرت عبدالرحمن بھی غیور اور خود دار تھے کہنے لگے اس کی ضرورت نہیں۔مجھے یہ بتاؤ کہ یہاں کوئی تجارتی منڈی ہے؟ انہیں بتایا گیا کہ یہود بنی قینقاع کا بازار ہے۔اگلی صبح وہ منڈی گئے اور شام کو تجارت کے بعد کچھ پنیر اور مکھن لے کر آئے۔چند ہی دنوں میں تجارت سے اتنا کچھ کما لیا کہ شادی بھی کر لی اور بطور حق مہر سونے کی ایک خاص مقدار مقرر کی۔آنحضرت نے ان کے حالات کی مناسبت سے کم از کم ایک بکری ذبح کر کے دعوت ولیمہ کرنے کی تحریک فرمائی۔( بخاری )19 ایک اور قابل تقلید مثال حضرت علیؓ کی ہے۔وہ بھی دیگر اصحاب رسول کی طرح مکہ ہجرت کر کے آئے تو تہی دامن تھے۔غزوہ بدر کے بعد ہ ھ میں رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی فاطمتہ الزھراء سے مدینہ میں ان کی شادی کے انتظام طے پا رہے تھے۔رسول کریم نے انہیں ایک اونٹنی عطا فرمائی ، حضرت علی نے بنی قینقاع کے ایک سنار کے ساتھ طے کیا کہ وہ اس کے ساتھ جنگل سے جا کر گھاس کاٹ کر اونٹنی پر لائیں گے اور مدینہ کے بازار میں سناروں کے پاس بطور ایندھن فروخت کریں گے۔( بخاری )20 اگر چہ بعد میں بوجوہ بی ارادہ پائیت کی کونہ پہنچ سکا مگر اس انتظام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نبی کریم کی تربیت کے نتیجہ میں صحابہ کرام کسی کام میں عار محسوس نہیں کرتے تھے اور محنت و تجارت کے ذریعہ تلاش معاش کی راہیں نکال لیتے تھے۔آنحضرت نے اپنے مختلف اصحاب کو حسب حالات مختلف چیزوں کی تجارت کے بارہ میں بھی رہنمائی کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ اہل جنت کو تجارت کی اجازت دیتا تو وہ ضرور کپڑے اور عطر کی تجارت کرتے“۔(بیشمی ) 21 آپ نے بکریوں کی تجارت بھی پسند فرمائی۔حضرت ام ہانی بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ میرے ہاں تشریف لائے اور فرمایا کیا وجہ ہے مجھے تمہارے پاس کوئی برکات نظر نہیں آتیں۔میں نے عرض کیا آپ کی مراد کن برکتوں سے ہے۔آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تین برکتیں اتاری ہیں۔بکریاں، کھجور میں اور آگ۔آپ نے ان سے یہ بھی فرمایا بکریاں پالو اس میں برکت ہے۔(بیشمی )22 انصار مدینہ اگر چہ زراعت پیشہ تھے تاہم یہود بنو قینقاع کے تجارتی ماحول کے باعث خرید و فروخت کے معاملات میں انہیں بھی دلچسپی اور درک پیدا ہو گئی تھی اور آنحضور اپنے صحابہ کا یہ شوق بڑھاتے بھی رہتے تھے۔ایک دفعہ نبی کریم نے