اسوہء انسانِ کامل — Page 189
اسوۃ انسان کامل 189 آنحضرت کا حسن معاملہ اور بہترین اسلوب تجارت پاس پہنچا اور معذرت کرتے ہوئے عرض کیا کہ سواری نہ ملنے کے باعث مجھے تاخیر ہوئی اس نے پوچھا کیا تم نے پہلے بھی میری طرف کچھ بھجوایا ہے مقروض نے کہا میں بتا تو رہا ہوں کہ اس سواری سے پہلے کوئی اور سواری نہیں ملی۔دیانتدار قرض خواہ نے کہا تو پھر اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف سے اس لکڑی کے ذریعہ جو تم نے بھجوائی تھی وہ قرض ادا کر دیا ہے پس اپنے ایک ہزار دینار لے کر خیر و برکت سے واپس جاؤ۔( بخاری )26 رسول کریم نے ایک دفعہ ایک اور تاجر کی حکایت سنائی جولوگوں کو قرض دیتا تھا اور اپنے قرض وصول کرنے والے کارندے سے کہتا تھا کہ جو آسانی مل جائے وہ لے لو اور جو مشکل ہوا سے چھوڑ دو اور درگزر کیا کرو شاید اللہ تعالیٰ اس طرح ہم سے بھی درگزر کرے۔جب وہ شخص فوت ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا کہ تم نے کبھی کوئی نیکی کی ہے اس نے کہا کہ نہیں ، ہاں میرا ایک نو کر تھا اور میں لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا جب میں اسے قرض واپس لینے کے لئے بھجواتا تو اسے کہتا تھا کہ جو آسانی سے مل جائے لے لینا اور جو مشکل ہو چھوڑ دینا۔شاید اللہ تعالیٰ اس طرح ہم سے درگزر کر دے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا جاؤ میں نے تمہیں معاف کیا۔(مسند احمد ) 27 تجارت میں رسول کریم کا عملی سبق بانی اسلام نے تجارت کے تفصیلی اصول و آداب ہی تعلیم نہیں فرمائے بلکہ ان کا عملی نمونہ بھی پیش کر کے دکھایا۔قرآن شریف میں لین دین کے کاروباری معاملات خصوصاً قرض اور تجارتی سودوں میں پوری شرائط اور مدت کے ساتھ تحریر کر لینے کی ہدایت کرتے ہوئے فرمایا۔کہ اس پر دو گواہ بھی مقرر کر لئے جائیں ( البقرہ: ۲۸۳ )۔البتہ روزمرہ اور معمول کی دست بدست تجارت میں سہولت کی خاطر تحریر کولازمی قرار نہیں دیا۔رسول اللہ نے اپنے کردار سے اس کا بہترین نمونہ دیا۔عرب کے دستور میں سودا کرتے وقت کسی لکھت پڑھت کا رواج نہیں تھا۔یوں بھی لکھنا پڑھنا عام نہ ہونے کی وجہ سے اس کی سہولت بھی میسر نہیں تھی مگر نبی کریم نے سودا کرتے وقت لکھ لینے یا رسید لینے کا دستور شروع فرمایا۔چنانچہ آنحضرت کے ایک سودے پر آپ کے معاہدہ کی تحریر کے الفاظ آج بھی محفوظ ہیں۔جو تجارت میں رسید جاری کرنے کے رواج کی قدیم ترین دستاویز کہلا سکتی ہے۔حضرت عداء بن خالد بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ نے مجھے یہ رسید عطا فرمائی کہ یہ تحریر اس بات کی ہے جو عداء بن خالد بن ہو زہ نے محمد رسول اللہ سے سودا کیا ہے۔اور آپ سے غلام یا لونڈی خریدی ہے۔یہ ایک مسلمان کا مسلمان کے ساتھ سودا ہے جس میں کوئی عیب ، خرابی یا نقص نہیں ہے۔یہ تحریر عداء بن خالد کے پاس محفوظ تھی۔( بخاری, ابوداؤد ) 28 صاف ظاہر ہے کہ ایسی تحریر کا مقصد تجارت اور لین دین میں صفائی و سچائی اور امانت و دیانت کے قیام کے سوا کیا ہوسکتا تھا۔اسلام نے ہر حال میں اور خصوصاً حقوق کے معاملات میں صاف سیدھی اور سچی بات کہنے پر زور دیا ہے۔(الاحزاب : اے ) آنحضور نے سودے کا یہ اصول بھی بیان فرمایا کہ تجارت کرنے والوں کو اپنے سودے کو بدلنے کا اختیار اس وقت تک ہوتا ہے جب تک وہ باہم جدا نہ ہو جائیں۔اور اگر وہ صاف اور کچی بات کریں اور کھول کر حقیقت بیان