اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 97 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 97

اسوہ انسان کامل 97 نبی کریم کی خشیت اور خوف الہی ایک دفعہ نبی کریم ایک نوجوان کے پاس تشریف لائے جو جان کنی کے عالم میں تھا۔آپ نے فرمایا تمہارا کیا حال ہے؟ اس نے جواب دیا خدا کی قسم اے اللہ کے رسول ! میں اللہ سے نیک اُمید رکھتا ہوں اور اپنے گنا ہوں سے ڈرتا بھی ہوں۔رسول اللہ نے فرمایا یہ دونوں باتیں یعنی خوف و رجاء جس مومن بندے کے دل میں آخری وقت میں اس طرح اکٹھی پائی جائیں اللہ تعالیٰ اُسے اس کی اُمید کے مطابق ضرور عطا کرے گا اور اس کے خوف سے اس کو امن عطا فرمائے گا۔(ترمذی)14 احکام الہی کی بجا آوری نبی کریم کے تقویٰ کا ایک اظہار اللہ کے احکام کی بجا آوری سے خوب ہوتا تھا جو رسول کریم ایسی مستعدی سے کرتے تھے جسکی مثال نہیں ملتی۔چنانچہ جب سورۃ النصر میں افواج کے اسلام میں داخلہ پر استقبال کی خاطر اللہ کی تسبیح وحمد اور استغفارکا حکم ہوا تو حضرت عائشہ فرماتی ہیں اس کے بعد رسول اللہ کی کوئی نماز خالی نہ جاتی تھی جس میں آپ یہ کلمات نہ پڑھتے ہوں سُبحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرُ لِی۔اے اللہ تو پاک ہے اے ہمارے رب اپنی حمد کے ساتھ۔اے اللہ مجھے بخش دے۔( بخاری ) 15 رسول کریم احکام الہی کی پیروی میں تقویٰ کی انتہائی باریک راہوں کا خیال رکھتے تھے۔حضرت نعمان بن بشیر کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم سے سنا، حلال اور حرام واضح ہیں اور ان کے درمیان شبہ والی چیزیں ہیں جن کو اکثر لوگ جانتے نہیں ، جو شخص ان مشتبہ چیزوں سے بچتا ہے اس نے اپنا دین اور عزت بچالی، جو ان شبہات میں پڑ گیا وہ اُس چرواہے کی طرح ہے جو ایک رکھ ( محفوظ چراگاہ) کے اردگر دبکریاں چراتا ہے۔اس بات کا اندیشہ ہے کہ اس کی بکریاں اس چراگاہ کے اندر چلی جائیں گی۔سنو ہر بادشاہ کی ایک رکھ ( محفوظ جگہ ) ہوتی ہے اور اللہ کی رکھ اس کی زمین میں اُس کی منع کردہ چیزیں ہیں۔پھر سنو! جسم میں ایک ایسا عضو ہے کہ اگر وہ درست ہو تو سب جسم درست رہتا ہے اور اگر وہ خراب ہو جائے تو سارا جسم خراب ہو جائے گا۔اور یا درکھو یہ دل ہے۔( بخاری )16 نبی کریم کے تقویٰ کی باریک راہوں کے اختیار کرنے اور شبہات سے بچنے کی چند مثالیں قابل ذکر ہیں۔حضرت عقبہ بن حارث سے روایت ہے کہ انہوں نے ابو اھاب کی بیٹی سے شادی کی۔ایک عورت نے آکر کہہ دیا کہ اس نے انہیں اور ان کی بیوی کو دودھ پلایا ہے۔عقبہ نے کہا مجھے تو تم نے دودھ نہیں پلایا اور نہ ہی بتایا ہے۔عقبہ حضور کے پاس مکہ سے مدینہ یہ مسئلہ پوچھنے آئے۔حضور نے فرمایا اب جب ایک دفعہ یہ بات کہی جاچکی ہے اور شک پڑ چکا ہے۔پھر کیسے تم میاں بیوی رہ سکتے ہو؟ پھر حضور نے ان کو بذریعہ طلاق جدا کروا دیا۔عقبہ نے اور شادی کر لی۔( بخاری ) 17 حضرت ابو قتادہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول کریم ﷺ کے ساتھ سفر حدیبیہ کے لئے نکلا آپ اور دیگر صحابہ تو احرام میں تھے مگر میں نے احرام نہیں باندھا تھا۔دوران سفر میں نے ایک جنگلی گدھا دیکھا اور حملہ کر کے اُسے شکار