اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 86 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 86

86 حق بندگی ادا کر نے والا۔۔۔۔عبد کامل اسوہ انسان کامل رکھتیں پڑھتے رہے۔اگر کبھی رات کو اتفاقا آنکھ نہ کھلتی تو دن کے وقت بارہ رکعتیں ادا کر کے اس کی تلافی فرماتے۔حضرت ابی بن کعب فرماتے ہیں کہ جب دو تہائی رات گزر چکی ہوتی تو آپ بآواز بلند فرماتے ”لوگو! خدا کو یاد کر و زلزلہ قیامت آنے والا ہے۔اس کے پیچھے آنے والی گھڑی سر پر ہے۔موت اپنے سامان کے ساتھ آ پہنچی ہے۔موت اپنے سامان کے ساتھ آ پہنچی ہے۔“ ( ترمذی )26 رات کے وقت آپ کی نماز بہت لمبی ہوتی۔نسبتا لمبی سورتیں تلاوت کرنا پسند فرماتے۔حضرت عائشہ سے رسول اللہ کی نماز (تہجد) کی کیفیت پوچھی گئی۔آپ نے فرمایا۔حضور رمضان یا اس کے علاوہ دنوں میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہ پڑھتے تھے مگر وہ اتنی لمبی ، پیاری اور حسین نماز ہوا کرتی تھی کہ اس نماز کی لمبائی اور حسن و خوبی کے متعلق مت پوچھو! یعنی میرے پاس وہ الفاظ نہیں جن سے آپ کی اس خوبصورت عبادت کا نقشہ کھینچ سکوں۔( بخاری ) 27 نوجوان صحابہ کو حضور کی عبادت دیکھنے کا بہت شوق تھا۔رسول اللہ کے عم زاد اور حضرت میمونہ کے بھانجے حضرت عبد اللہ بن عباس کہتے ہیں۔”میں ایک رات رسول اللہ کے گھر ٹھہرا۔نصف رات یا اس سے کچھ پہلے آپ بیدار ہوئے۔چہرے سے نیند زائل کی۔آلِ عمران کی آخری دس آیات تلاوت فرمائیں۔پھر گھر میں لٹکے ہوئے مشکیزہ سے نہایت عمدہ طریق پر وضوء کیا اور نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔میں جا کر بائیں پہلو میں کھڑا ہو گیا۔آپ نے مجھے کان سے پکڑ کر دائیں طرف کر دیا۔آپ نے تیرہ رکعتیں ادا فرمائیں۔“ (بخاری) 28 نبی کریم ﷺ نے اپنے اس عمل سے ایک نوجوان کی عملی تربیت بھی فرما دی کہ اکیلا مقتدی امام کے دائیں طرف کھڑا ہونا چاہئے۔29 حضرت عوف بن مالک اشجعی کہتے ہیں کہ ایک رات مجھے نبی کریم ﷺ کے ساتھ رات کو عبادت کرنے کی توفیق ملی۔آپ نے پہلے سورہ بقرہ پڑھی۔آپ کسی رحمت کی آیت سے نہیں گزرتے تھے مگر وہاں رک کر دعا کرتے اور کسی عذاب کی آیت سے نہیں گزرتے مگر رک کر پناہ مانگتے۔پھر قیام کے برابر آپ نے رکوع فرمایا۔جس میں تسبیح وتحمید کرتے رہے۔پھر قیام کے برابر سجدہ کیا۔سجدہ میں بھی یہی تسبیح ، دعا پڑھتے رہے۔پھر کھڑے ہو کر آل عمران پڑھی۔پھر اس کے بعد ہر رکعت میں ایک ایک سورۃ پڑھتے رہے۔(ابوداؤد) حضرت حذیفہ بن یمان ( رسول اللہ ﷺ کے راز دار صحابی) فرماتے ہیں کہ انہوں نے رمضان میں ایک رات رسول اللہ کے ساتھ نماز ادا کی۔نماز شروع کرتے ہوئے آپ پڑھ رہے تھے۔اللَّهُ اَكْبَرُدُ وَالمَلَكُوتِ وَالْجَبَرُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالعَظمَةِ یعنی اللہ بڑا ہے جو اقتدار اور سطوت کبریائی اور عظمت والا ہے۔پھر آپ نے سورۃ بقرہ (مکمل) پڑھی ، پھر رکوع فرمایا، جو قیام کے برابر تھا، پھر رکوع کے برابر وقت کھڑے ہوئے ، پھر سجدہ کیا جو قیام کے برابر تھا۔پھر دونوں سجدوں کے درمیان رَبِّ اغْفِرْ لِي رَبِّ اغْفِرْ لِی میرے