اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 85 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 85

اسوہ انسان کامل 85 حق بندگی ادا کرنے والا۔۔۔۔عبد کامل نماز پڑھی۔یوں آپ نے سبق دیا کہ موت کے بڑے سے بڑے خطرے میں بھی نماز ترک نہیں کی جاسکتی یہ رخصت دے دی کہ سواری پر یا پیدل یا چلتے ہوئے بھی اشارے سے نماز ادا کی جاسکتی ہے۔( بخاری ) 21 آخری بیماری میں رسول کریم تپ محرقہ کے باعث شدید بخار میں مبتلا تھے مگر فکر تھی تو نماز کی گھبراہٹ کے عالم میں بار بار پوچھتے ، کیا نماز کا وقت ہو گیا ؟ بتایا گیا کہ لوگ آپ کے منتظر ہیں۔بخار ہلکا کرنے کی خاطر فرمایا کہ میرے اوپر پانی کے مشکیزے ڈالو تعمیل ارشاد ہوئی مگر پھر غشی طاری ہو گئی۔ہوش آیا تو پھر پوچھا کہ کیا نماز ہوگئی ؟ جب پتہ چلا کہ صحابہ انتظار میں ہیں تو فرمایا مجھ پر پانی ڈالو جس کی تعمیل کی گئی۔غسل سے بخار کچھ کم ہو تو تیسری مرتبہ نماز پر جانے لگے مگر نقاہت کے باعث نیم غشی کی کیفیت طاری ہو گئی اور آپ مسجد تشریف نہ لے جاسکے۔(بخاری، ترمذی) 22 بخار میں پھر جب ذرا افاقہ ہوا تو اسی بیماری اور نقاہت کے عالم میں دو صحابہ کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر ، انکا سہارا لے کر رسول اللہ نماز پڑھنے مسجد گئے۔حالت یہ تھی کہ کمزوری سے پاؤں زمین پر گھسٹتے جارہے تھے۔حضرت ابوبکر نماز پڑھا رہے تھے۔آپ نے اُن کے بائیں پہلو میں امام کی جگہ بیٹھ کر نماز پڑھائی۔اور یوں آخر دم تک خدا کی عبادت کا حق ادا کر کے دکھا دیا۔( بخاری ) دنیا میں رسول اللہ یہ کی آخری خوشی بھی نماز کی ہی خوشی تھی ، جب آپ نے سوموار کے دن ( جس روز دنیا سے کوچ فرمایا) فجر کی نماز کے وقت اپنے حجرے کا پردہ اٹھا کر دیکھا تو صحابہ موعبادت تھے۔اپنے غلاموں کو نماز میں دیکھ کر آپ کا دل سرور سے بھر گیا۔خوشی سے چہرے پر تبسم کھیلنے لگا۔( بخاری ) 24 23 آپ نے بیچ ہی تو فرمایا کہ ” میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز ہے۔ایسے اہتمام سے ادا کی جانیوالی نمازیں محبت الہی اور خشوع و خضوع سے کیسی بھری ہوئی ہوتی ہونگی۔(اس کا تفصیلی نقشہ رسول اللہ کی خشیت کے زیر عنوان بیان کیا گیا ہے ) نماز تہجد نبی کریم ﷺ کی با جماعت فرض نمازیں نسبتا مختصر ہوتی تھیں تا کہ کمزور ، بیمار، بچے، بوڑھے اور مسافر کیلئے بوجھ نہ ہو لیکن تنہائی میں آپ کی نفل نمازوں کی شان تو بہت نرالی تھی۔فرماتے تھے کہ بندہ نوافل کے ذریعہ بدستوراللہ کے قریب ہوتا جاتا ہے۔یہاں تک کہ خدا اس کے ہاتھ پاؤں اور آنکھیں ہو جاتا ہے۔بلاشبہ محبت الہی اور فنافی اللہ کا یہ مقام آپ نے حاصل کر کے ہمیں خوبصورت نمونہ دیا۔تہجد کی نماز رسول اللہ کی روح کی غذا تھی۔فرماتے تھے کہ اللہ نے ہر نبی کی ایک خواہش رکھی ہوتی ہے اور میری دلی خواہش رات کی عبادت ہے۔(طبرانی) 25 ابتدا میں آپ رات کے وقت تیرہ یا گیارہ رکعتیں (بمعہ وتر ) ادا فرماتے اور آخری عمر میں کمزوری کے باعث نو