اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 56 of 119

اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 56

ایک دوسرے کی گردنیں کاٹی جارہی ہیں۔اب ان علماء سے کوئی پوچھے کہ تم جو بے علم اور اَن پڑھ مسلمانوں کے جذبات کو ابھار کر (جو مذہبی جوش میں آکر اپنی طرف سے غیرت اسلامی کا مظاہرہ کرتے ہوئے غلط حرکتیں کرتے ہیں )، ان کی جو تم غلط رہنمائی کرتے ہو تو یہ کون سا اسلام ہے؟ اسلام کی تعلیم تو یہ ہے کہ جب تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نازیبا کلمات سنو، باتیں سنو تو آپ کے محاسن بیان کرو۔آپ پر درود بھیجو۔یہ تمہارے جہاد سے زیادہ افضل ہے۔جان دینے سے زیادہ بہتر ہے کہ دعاؤں اور درود کی طرف توجہ دو۔اور اس زمانے میں جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ ہے یہ اور بھی زیادہ ضروری ہے کہ بجائے تشدد کے دعاؤں اور درود پر زور دو اور اس کے ساتھ ہی اپنی اصلاح کی بھی کوشش کرو۔اپنے نفسوں کو ٹولو کہ کس حد تک ہم آنحضرت ﷺ سے محبت کرنے والے ہیں۔یہ وقتی جوش تو نہیں ہے جو بعض طبقوں کے ذاتی مفاد کی وجہ سے ہمیں بھی اس آگ کی لپیٹ میں لے رہا ہے؟۔پس ہمیں چاہئے کہ جہاں اپنی اصلاح کی طرف توجہ دیں وہاں اپنے ماحول میں اگر مسلمانوں کو سمجھا سکتے ہوں تو ضرور سمجھائیں کہ غلط طریقے اختیار نہ کرو بلکہ وہ راہ اختیار کرو جس کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے پسند کیا ہے اور وہ راہ ہمیں بتائی ہے اور وہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم نے میری رضا حاصل کرنی ہے، جنت میں جانا ہے تو مجھ پر درود بھیجو۔ایک روایت میں آتا ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ” جو شخص مجھ پر درود نہیں بھیجتا اس کا کوئی دین ہی نہیں۔“ (جلاء الافهام۔بحواله محمد بن۔حمدان مروزی) 56