اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 78
لئے یا کسی کی خاطر یا مسلمانوں کے خوف یا ڈر کی وجہ سے نہیں دیئے۔بلکہ یہ ہمارے ایمان کا ایک حصہ ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق تو ڑ کر ہماری زندگی کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے چند حوالے میں پڑھوں گا۔اس سے بات مزید کھولتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیمات کا خلاصہ آپ فرماتے ہیں کہ : ” ہمارے مذہب کا خلاصہ اور کپ کباب یہ ہے کہ لَا اِلهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ الله ہمارا اعتقاد جو ہم اس دنیوی زندگی میں رکھتے ہیں جس کے ساتھ ہم بفضل و توفیق باری تعالیٰ اس عالم گزران سے کوچ کریں گے“۔( یعنی کہ اسی ایمان کے ساتھ ہم اس دنیا سے جائیں گے۔” یہ ہے کہ حضرت سیدنا ومولانا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبيين وخير المرسلین ہیں جن کے ہاتھ سے اکمال دین ہو چکا اور وہ نعمت بمرتبہ اتمام پہنچ چکی جس کے ذریعہ سے انسان راہ راست کو اختیار کر کے خدائے تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے“۔(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحه 169-170) تو یہ ہے ہمارے ایمان کا حصہ اور یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں تعلیم دی ہے۔تو جس کا یہ ایمان ہو اس کے بارے میں کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ اس کے واسطے کے بغیر وہ خدا تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے یا نبوت مل گئی۔پھر آپ فرماتے ہیں: " صراط مستقیم فقط دین اسلام ہے اور اب آسمان کے نیچے فقط ایک ہی نبی اور ایک ہی کتاب ہے یعنی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جو اعلیٰ و افضل سب نبیوں سے اور اتم و اکمل سب رسولوں سے اور خاتم الانبیاء اور خیر الناس ہیں جن کی پیروی سے خدائے تعالیٰ ملتا ہے اور ظلماتی پردے اٹھتے ہیں اور اسی جہان میں کچی نجات کے آثار 78