اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 79
نمایاں ہوتے ہیں اور قرآن شریف جو کچی اور کامل ہدایتوں اور تاثیروں پر مشتمل ہے جس کے ذریعہ سے حقانی علوم اور معارف حاصل ہوتے ہیں اور بشری آلودگیوں سے دل پاک ہوتا ہے، اور انسان جہل اور غفلت اور شبہات کے حجابوں سے نجات پا کر حق الیقین کے مقام تک پہنچ جاتا ہے۔( براہین احمدیہ ہر چہار ص۔حاشیہ در حاشیہ نمبر 3۔روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 557-558) یعنی کہ اب جو کچھ بھی ملنا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے ملنا ہے۔اور آپ پر ہی نبوت کامل ہوتی ہے آپ کی تعلیم سے ہی جو اندھیرے ہیں وہ دُور ہوتے ہیں اور روشنی ملتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا قرب بھی اسی سے ملنا ہے۔حقیقی نجات بھی اسی سے ملنی ہے اور دل کی گندگیاں اسی سے صاف ہونی ہیں جو تعلیم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے۔پھر آپ فرماتے ہیں: ” ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اظہار سچائی کے لئے ایک مجدد اعظم تھے جو گم گشتہ سچائی کو دوبارہ دنیا میں لائے۔اس فخر میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی بھی نبی شریک نہیں کہ آپ نے تمام دنیا کو ایک تاریکی میں پایا اور پھر آپ کے ظہور سے وہ تاریکی نور سے بدل گئی۔جس قوم میں آپ ظاہر ہوئے ، آپ فوت نہ ہوئے جب تک کہ اس تمام قوم نے شرک کا چولہ اتار کر تو حید کا جامہ نہ پہن لیا۔اور نہ صرف اس قدر بلکہ وہ لوگ اعلیٰ مراتب ایمان کو پہنچ گئے اور وہ کام صدق اور وفا اور یقین کے ان سے ظاہر ہوئے کہ جس کی نظیر دنیا کے کسی حصہ میں پائی نہیں جاتی۔یہ کامیابی اور اس قدر کامیابی کسی نبی کو بجز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نصیب نہیں ہوئی۔یہی ایک بڑی دلیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر ہے کہ آپ ایک ایسے زمانہ میں مبعوث اور تشریف فرما ہوئے جبکہ زمانہ نہایت درجہ کی ظلمت میں پڑا ہوا تھا اور طبعا ایک عظیم الشان مصلح کا خواستگار تھا۔اور پھر آپ نے ایسے وقت میں دنیا سے انتقال فرمایا جبکہ لاکھوں انسان شرک اور بت پرستی کو 79