عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 12
12 آج کے اس دور میں ، جب کہ دُنیا واقعی سمٹ کر ایک گلوبل و پیچ بن گئی ہے جس کا پہلے تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا، میں بحیثیت انسان اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا چاہیے۔ہمیں انسانی حقوق کے ان مسائل کو حل کرنے کی طرف توجہ دینے اور ایسی کوشش کرنے کی ضرورت ہے جس سے دُنیا میں امن قائم کرنے میں مد دل سکتی ہے۔ظاہر ہے کہ یہ کوشش عدل کے تقاضے پورے کرنے کی نیت سے اور پوری دیانتداری سے کی جانی چاہیے۔اس دور کے مسائل میں سے ایک مسئلہ اگر براہِ راست نہیں تو بالواسطہ مذہب کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔مسلمانوں کے بعض گروہ مذہب کے نام پر نا جائز حملے یا خودکش دھماکے کرتے ہیں تا کہ غیر مسلموں کو جن میں فوجی اور معصوم شہری بھی شامل ہیں نقصان پہنچائیں یا ہلاک کریں جس کے نتیجہ میں معصوم مسلمان یہاں تک کہ بچے بھی نہایت بے رحمی سے مارے جا رہے ہیں۔اسلام اس ظالمانہ فعل کو کلیڈ رڈ کرتا ہے۔بعض مسلمانوں کے اس بھیانک طرز عمل کی وجہ سے غیر مسلم ممالک میں ایک بالکل غلط تاثر پیدا ہو چکا ہے جس کے نتیجہ میں معاشرہ کے بعض طبقات علی الاعلان اسلام کے خلاف باتیں کرتے ہیں جبکہ بعض دوسرے ایسے ہیں جو اگر چہ کھلم کھلا اظہار تو نہیں کرتے مگر دلوں میں اسلام کے بارہ میں کوئی اچھی رائے بھی نہیں رکھتے۔یہ وہ صورت حال ہے جس کی وجہ سے مغربی ممالک اور دیگر غیر مسلم ممالک کے لوگوں کے دلوں میں ان چند مسلمانوں کے طرز عمل کے باعث عدم اعتماد پیدا ہو گیا ہے۔بہتری کی کوئی صورت پیدا ہونے کی بجائے غیر مسلموں کا رد عمل ہر روز بد سے بدتر ہوتا چلا جا رہا ہے۔اس غلط رد عمل کی ایک مثال تو وہ حملے ہیں جو آنحضرت ﷺ کی سیرت اور کردار پر اور مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کریم پر کیے جاتے ہیں۔اس لحاظ سے برطانوی سیاستدانوں ، خواہ وہ کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھتے ہوں اور دانشوروں کا رویہ بعض دیگر ممالک کے سیاستدانوں کے رویہ سے مختلف ہے۔میں اس کے لیے آپ کا شکر گزار ہوں۔ایسے نازک احساسات کو ٹھیس پہنچانے سے نفرتوں میں اضافہ کے سوا کیا حاصل ہوسکتا ہے؟ یہ نفرت پھر بعض انتہا پسند مسلمانوں کو ایسی حرکتیں کرنے پر آمادہ کرتی ہے جو سراسر غیر اسلامی ہیں جن