عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 13
عالمی بحران پر اسلامی نقطۂ نظر 13 کے نتیجہ میں کئی غیر مسلموں کو پھر موقع ملتا ہے کہ وہ اپنی مخالفت کا اظہار کریں۔ان حملوں سے ان لوگوں کو جو انتہا پسند نہیں ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے گہری محبت رکھتے ہیں شدید تکلیف پہنچتی ہے۔ان میں جماعت احمد یہ سرفہرست ہے۔ہمارا سب سے اہم کام ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ دنیا کو آنحضرت ﷺ کے کامل اُسوہ اور اسلام کی حسین تعلیمات سے آگاہ کیا جائے۔ہم تمام انبیاء کا سچا احترام کرتے ہیں اور ایمان لاتے ہیں کہ یہ سب خدا کے فرستادہ ہیں۔اس لیے ہم تو ان میں سے کسی کے خلاف کوئی بے ادبی نہیں کر سکتے لیکن جب ہم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بے بنیاد اور جھوٹے الزامات سنتے ہیں تو ہمارے دل بے حد رنجیدہ ہو جاتے ہیں۔آج جب کہ دنیا مختلف بلاکوں میں تقسیم ہوتی جا رہی ہے، انتہا پسندی بڑھ رہی ہے۔نیز مالی اور اقتصادی صورت حال بدتر ہوتی چلی جا رہی ہے اس امر کی فوری ضرورت ہے کہ ہرقسم کی نفرتوں کو مٹا دیا جائے اور امن کی بنیادوں کو استوار کیا جائے۔اور یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ ایک دوسرے کے ہر قسم کے جذبات کا خیال رکھا جائے۔اگر یہ کام صحیح رنگ میں پوری ایمانداری اور نیک نیتی کے ساتھ نہ کیا گیا تو حالات اور زیادہ ابتر ہو جائیں گے اور پھر ہمارے بس میں کچھ بھی نہیں رہے گا۔یہ ایک قابل تحسین بات ہے کہ اقتصادی طور پر مضبوط مغربی ممالک نے غریب اور پسماندہ ممالک کے افراد کو اپنے ملکوں میں آکر آباد ہونے کی اجازت دی ہے۔ان لوگوں میں مسلمان بھی شامل ہیں۔حقیقی عدل کا تقاضا ہے کہ ان لوگوں کے جذبات اور مذہبی سرگرمیوں کا بھی احترام کیا جائے۔یہ وہ طریق ہے جس کو اختیار کر کے لوگوں کے ذہنی اطمینان کو قائم رکھا جا سکتا ہے۔ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ جب کسی فرد کا ذہنی اطمینان اُٹھتا ہے تو پھر معاشرہ کا امن بھی متاثر ہوتا ہے۔جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے کہ میں برطانیہ کے سیاستدانوں اور قانون سازی کرنے والوں کا شکر گزار ہوں کہ اُنہوں نے عدل کے تقاضے پورے کیے ہیں اور اس کے راستہ میں حائل نہیں ہوئے۔