عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 11 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 11

عالمی بحران پر اسلامی نقطۂ نظر دے سکتے ہیں۔ماضی قریب میں برطانیہ نے دُنیا کے بہت سے ممالک خصوصاً برصغیر پاک و ہند پر حکومت کی ہے اور عدل وانصاف اور مذہبی آزادی کے اعلیٰ معیار قائم کیے ہیں۔جماعت احمد یہ مسلمہ اس کی گواہ ہے۔بانی جماعت احمدیہ نے عدل و انصاف اور مذہبی آزادی دینے کی برطانوی حکومت کی پالیسی کی بہت تعریف فرمائی ہے۔جب بانی جماعت احمدیہ نے ملکہ وکٹوریہ کو ان کی ڈائمنڈ جوبلی کے موقع پر مبارکباددی اور اسلام کا پیغام پہنچایا تو آپ نے خاص طور پر دُعا بھی کی تھی کہ اللہ تعالیٰ برطانوی حکومت کو اس کی کوششوں کا اجر عطا فرمائے جو اس نے عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے کی ہیں۔پس ہماری تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی سلطنت برطانیہ نے انصاف کا مظاہرہ کیا ہے ہم نے ہمیشہ اس پر شکر گزاری کا اظہار کیا ہے۔ہم یہ بھی اُمید کرتے ہیں کہ مستقبل میں بھی عدل وانصاف برطانوی حکومت کی پہچان بنارہے گا صرف مذہبی معاملات میں ہی نہیں بلکہ ہر لحاظ سے۔ہم یہ امید رکھتے ہیں کہ آپ اپنے اُن اوصاف کو فراموش نہیں کریں گے جو ماضی میں آپ کا حصہ رہے ہیں۔آج دُنیا ایک اضطراب اور بے چینی کا شکار ہے۔محدود پیمانہ پر جنگوں کی آگ بھڑک رہی ہے۔بعض جگہوں پر بڑی طاقتیں یہ دعوی کر رہی ہیں کہ ہم امن کے قیام کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔اندیشہ یہ ہے کہ اگر عدل وانصاف کے تقاضے پورے نہ کیے گئے تو ان چھوٹی چھوٹی جنگوں کے شعلے بہت بلند ہو جائیں گے۔اور ساری دُنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔اس لیے میری آپ سے یہ عاجزانہ درخواست ہے کہ دنیا کوتاہی سے بچائیں۔اب میں مختصر طور پر بیان کروں گا کہ اسلام کی وہ کون سی تعلیمات ہیں جو دُنیا میں امن قائم کرنے کے لیے ہیں یا یہ کہ ان تعلیمات کی روشنی میں دُنیا میں کس طرح امن قائم کیا جا سکتا ہے؟ میری یہ دُعا ہے کہ مسلمان جو ان تعلیمات کے پہلے مخاطب ہیں ان پر عمل پیرا ہوسکیں مگر در حقیقت دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں اور حکومتوں کا بھی فرض ہے کہ وہ ان تعلیمات پر عمل کریں۔