عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 10 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 10

10 حق ! آپ فرماتے ہیں کہ حقوق العباد کی ادائیگی سب سے زیادہ مشکل اور نازک امر ہے۔* خلافت کے حوالہ سے آپ کو یہ خدشہ ہو سکتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تاریخ خود کو دہرائے اور ایسی قیادت کے نتیجہ میں جنگیں شروع ہو جائیں۔اگر چہ اسلام کے خلاف اس قسم کی الزام تراشی کی جاتی ہے لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ انشاء اللہ تعالیٰ خلافت احمد یہ دنیا میں ہمیشہ امن و آشتی کی حقیقی علمبردار کے طور پر جانی جاتی رہے گی۔احمدی جس ملک میں بھی رہتے ہوں گے وہ اپنے اپنے ملک کے وفادار شہری ثابت ہوں گے۔خلافت احمدیہ کا کام تو صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشن کو جاری رکھنا اور اسے آگے بڑھانا ہے۔اس لیے خلافت احمدیہ سے خائف ہونے کی قطعاً کوئی وجہ نہیں ہے۔خلافت احمد یہ تمام احمدیوں کو ان ہر دو فرائض کی ادائیگی کی طرف مسلسل متوجہ رکھتی ہے جن کی خاطر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت ہوئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہ جماعت دنیا میں امن و آشتی کی فضا پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہے۔چونکہ وقت محدود ہے اس لیے اب میں اپنے اصل موضوع کی طرف آتا ہوں۔اگر ہم گزشتہ چند صدیوں کی تاریخ کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیں تو ہمیشہ یہ نظر آئے گا کہ اس دور میں جو جنگیں ہوئیں وہ در حقیقت مذہبی جنگیں نہیں تھیں بلکہ زیادہ تر جغرافیائی اور سیاسی نوعیت کی جنگیں تھیں۔آج بھی اقوامِ عالم کے مابین جو تنازعات موجود ہیں وہ دراصل سیاسی ، علاقائی اور اقتصادی مفادات کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں اور حالات جو رخ اختیار کر رہے ہیں انہیں دیکھتے ہوئے مجھے ڈر ہے کہ مختلف ممالک کے سیاسی اور اقتصادی تغیرات ایک عالمگیر جنگ پر منتج ہو سکتے ہیں۔ان حالات کے نتیجہ میں صرف امیر ممالک ہی نہیں بلکہ غریب ممالک بھی متاثر ہورہے ہیں۔اس لیے طاقتور ممالک پر ذمہ داری عاید ہوتی ہے کہ وہ مل بیٹھ کر انسانیت کو تباہی کے گڑھے میں گرنے سے بچانے کی کوشش کریں۔برطانیہ اُن ممالک میں سے ہے جو ترقی یافتہ دنیا اور ترقی پذیر ممالک دونوں پر اثر انداز ہوسکتا ہے اور ہوتا بھی ہے، آپ اگر چاہیں تو عدل اور انصاف کے تقاضے پورے کر کے دُنیا کی راہنمائی کا کام سر انجام ملفوظات جلد اول صفحہ نمبر 326