عالمی بحران اور امن کی راہ — Page x
viii تعلقات میں انصاف کی فراہمی کو مرکزی حیثیت دینے میں ہے۔اگر آپس میں تنازعات بھی ہوں تو پھر بھی انہیں انصاف سے حل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ مستقبل میں نفرتوں کو دور کر کے دیر پا امن کے قیام کا یہی ایک واحد راستہ ہے۔یہی قرآن کریم کی وہ تعلیم ہے جس کی طرف آپ نے دُنیا کے راہنماؤں کو اپنے خطوط میں توجہ دلائی ہے۔اور تمہیں کسی قوم کی دشمنی اس وجہ سے کہ اُنہوں نے تمہیں مسجد حرام سے روکا تھا اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم زیادتی کرو اور نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے سے تعاون کرو۔اور گناہ اور زیادتی کے کاموں ) میں تعاون نہ کرو اور اللہ سے ڈرو۔یقینا اللہ سزا میں بہت سخت ہے۔" اسرائیل کے وزیر اعظم کو خط میں آپ نے لکھا: (سورۃ المائدہ : 3) ” میری آپ سے درخواست ہے کہ دنیا کو جنگ کے دہانہ پر پہنچانے کی بجائے اپنی انتہائی ممکنہ کوشش کریں کہ انسانیت عالمی تباہی سے محفوظ رہے۔باہمی تنازعات کو طاقت کے استعمال سے حل کرنے کی بجائے گفت و شنید اور مذاکرات کا راستہ اپنائیں تا کہ ہم اپنی آئندہ نسلوں کو تاب ناک مستقبل مہیا کرسکیں نہ یہ کہ ہم انہیں معذوریوں کا تحفہ دینے والے ہوں۔“ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر کو آپ نے توجہ دلائی آج ہر طرف اضطراب اور بے چینی پھیلی ہوئی ہے یعنی دنیا کے کچھ خطوں میں چھوٹے پیمانہ پر جنگیں شروع ہو چکی ہیں جبکہ بعض اور علاقوں میں عالمی طاقتیں قیام امن کے بہانہ سے مداخلت کر رہی ہیں۔آج دُنیا کا ہر ملک یا تو کسی دوسرے ملک کی دشمنی پر کمر بستہ ہے یا کسی دوسرے ملک کا حمایتی بنا ہوا ہے لیکن انصاف کے بنیادی تقاضوں کو پورا کرنے کی طرف کوئی بھی متوجہ نہیں۔عالمی حالات کو دیکھتے ہوئے نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایک اور عالمی جنگ کی بنیاد رکھی جا چکی ہے۔“