عالمی بحران اور امن کی راہ — Page xi
تعارف صدر اوباما کو لکھا: ”ہم سب جانتے ہیں کہ جنگ عظیم دوم کے بنیادی محرکات میں لیگ آف نیشنز کی ناکامی اور 1932ء میں رونما ہونے والا معاشی بحران سر فہرست تھا۔آج دنیا کے چوٹی کے ماہرین معاشیات بر ملا کہہ رہے ہیں کہ موجودہ دور کے معاشی مسائل اور 1932 ء والے بحران میں بہت سی قدریں مشترک دکھائی دے رہی ہیں۔سیاسی اور اقتصادی مسائل نے کئی چھوٹے ممالک کو ایک بار پھر جنگ پر مجبور کر دیا ہے اور بعض ممالک داخلی بدامنی اور عدم استحکام کا شکار ہیں۔ان تمام امور کا منطقی نتیجہ ایک عالمی جنگ کی صورت میں ہی نکلے گا۔اگر چھوٹے ممالک کے جھگڑے سیاسی طریق کار اور سفارت کاری کے ذریعہ حل نہ کیے گئے تو لازم ہے کہ دنیا میں نئے جتھے اور بلاک جنم لیں گے اور یقینا یہ امر تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ ہوگا۔ایسی صورت حال میں دُنیا کی ترقی پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے زیادہ ضروری بلکہ ناگزیر ہے کہ ہم دنیا کو اس عظیم تباہی سے بچانے کی کوشش کریں۔بنی نوع انسان کو خدائے واحد کو پہچاننے کی سخت اور فوری ضرورت ہے جو سب کا خالق ہے اور انسانیت کی بقا کی یہی ایک ضمانت ہے۔ور نہ دنیا تو رفتہ رفتہ تباہی کی طرف گامزن ہے ہی۔“ عوامی جمہوریہ چین کے وزیر اعظم وین جیا بہاؤ کو لکھا: ”میری دعا ہے کہ عالمی را ہنما دانش مندی سے کام لیتے ہوئے اقوامِ عالم اور افراد کے مابین موجود چھوٹے چھوٹے تنازعات کو عالمگیر بننے سے بچانے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔“ اور برطانیہ کے وزیر اعظم کو لکھا: میری درخواست ہے کہ ہم ہر جہت اور ہر ایک پہلو سے اپنی تمام تر سعی بروئے کار لا کر دنیا سے نفرت کو مٹادیں۔اگر ہم اس کوشش میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ کامیابی ہماری آئندہ آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل کی ضمانت ہوگی اور نا کامی کی صورت میں ہماری آئندہ ix