عالمی بحران اور امن کی راہ — Page ix
تعارف آج دنیا ایک تلاطم خیز دور سے گزر رہی ہے۔عالمی مالیاتی بحران کی وجہ سے قریباً ہر ہفتہ نئے اور پہلے سے بڑے خطرات پیش آ رہے ہیں۔ان ایام کو دوسری عالمی جنگ سے معا پہلے کے زمانہ سے مماثل قرار دیا جارہا ہے اور واضح نظر آ رہا ہے کہ حالات و واقعات دُنیا کو غیر معمولی تیزی کے ساتھ ایک خوفناک تیسری عالمی جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔اس بات کو شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے کہ حالات تیزی سے قابو سے باہر ہورہے ہیں اور لوگ کسی ایسے شخص کے منتظر ہیں جو منظر عام پر آئے اور ایسی ٹھوس اور سنجیدہ راہنمائی کرے جو قابل اعتماد ہو جس کی باتیں دل و دماغ دونوں پر یکساں اثر کریں اور وہ انہیں کسی ایسے راستہ کے موجود ہونے کی اُمید دلائے جو امن کا راستہ ہو۔ایک ایٹمی جنگ کے نتائج اس قدر تباہ کن ہیں کہ کوئی ان کے متعلق سوچ بھی نہیں سکتا۔اس کتاب میں ہم نے حضرت مرزا مسرور احمد امام جماعت احمدیہ مسلمہ عالمگیر کی پیش کردہ راہنمائی کو یکجا کر دیا ہے۔پچھلے کئی سالوں سے دُنیا کو جس قسم کے حالات کا سامنا ہے۔آپ بلاخوف وخطر دُنیا کو اُن سے آگاہ کر رہے ہیں۔سنسنی پھیلانے کے لیے نہیں بلکہ یہ بتانے کے لیے کہ دنیا ان حالات تک کیسے پہنچی اور اب کس طرح تباہی سے بچ سکتی ہے اور اس گلوبل وپیچ میں رہتے ہوئے امن اور تحفظ کی راہ کس طرح متعین ہوسکتی ہے؟ آپ نے وضاحت سے یہ اعلان کیا ہے کہ دُنیا کے لیے امن کے حصول کا واحد راستہ عاجزی اور انصاف کی راہ اپنانے میں اور انکسار اور اطاعت کے ساتھ خدا کی طرف آنے میں ہے۔اسی طرح بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی، کمزور کی مدد اور اس کی عزت اور غم خواری اور سچائی اور تقویٰ کے راستہ پر چلتے ہوئے عاجزی اور اخلاص کے ساتھ اپنے خالق کی طرف واپس رُجوع کرنے میں ہے۔آپ نے سب کو بارہا یہ باور کرایا کہ قوموں کے لیے تباہی کے کنارے سے واپسی کا راستہ باہمی