اُردو کی کتب (کتاب چہارم) — Page 154
اُردو کی کتاب چهارم امر یہی ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم زندہ بجسدہ العصری آسمان کی طرف اٹھائے گئے ہیں اور یہی میرا عقیدہ ہے، اس پر اگر ایک سال کے اندر اندر آپ خدا کے عبرتناک عذاب سے بچ نکلیں تو میں جھوٹا ہوں۔چنانچہ فیصلہ ہوا کہ ۲۰/اکتوبر ۱۸۹۱ء کو عصر کی نماز کے بعد مباحثہ ہو یا قسم اٹھائی جائے جو لوگ دیانتداری سے حق و باطل کا فیصلہ چاہتے تھے وہ اس دن بشدت انتظار کرنے لگے لیکن مخالفین جن کی تعداد زیادہ تھی یہ فیصلہ کیا کہ آپ کو مسجد ہی میں قتل کر دینا چاہئے۔حضور کو ۱/۲۰ کتوبر کی صبح ہی سے یہ پیغام آنے لگے کہ آپ جامع مسجد میں ہر گز نہ جائیں فساد کا اندیشہ ہے۔دلی کے لوگ آپ کے قتل کے درپے ہیں۔حضور اپنی قیامگاہ سے نماز ظہر و عصر ادا کرنے کے بعد جامع مسجد دہلی کے لئے روانہ ہوئے راستے میں کئی بد بخت گھات میں بیٹھ گئے کہ بندوق سے حضور پر فائز کر دیں لیکن خدا تعالیٰ کی قدرت کہ جس راہ سے حضرت اقدس اور آپ کے خدام کو جانا تھا بگھی والوں نے کہا کہ ہم اس راہ سے نہیں جائیں گے گویا خدا تعالیٰ نے بکھی والوں کے دل میں ہی دوسرا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ پیدا کر دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰ اکتو برا ۱۸۹ کو جامع مسجد دہلی کے جنوبی دروازے سے مسجد میں داخل ہوئے اور سیدھے محراب میں تشریف لے گئے۔تھوڑی دیر کے بعد مولوی سید نذیر حسین ۱۵۴