اُردو کی کتب (کتاب چہارم) — Page 122
اُردو کی کتاب چهارم تب امیر نے جواب دیا کہ شریعت کے تم ہی بادشاہ ہو اور تمہارا ہی فتویٰ ہے اس میں میرا کوئی دخل نہیں۔تب قاضی نے گھوڑے سے اتر کر ایک پتھر چلایا جس پتھر سے شہید مرحوم کو زخم کاری لگا اور گردن جھک گئی۔پھر بعد اس کے بد قسمت امیر نے اپنے ہاتھ سے پتھر چلایا پھر کیا تھا اس کی پیروی سے ہزاروں پتھر شہید مرحوم پر پڑنے لگے۔اور کوئی حاضرین میں ایسا نہ تھا جس نے شہید مرحوم کی طرف پتھر نہ پھینکا ہو یہاں تک کہ کثرت پتھروں سے شہید مرحوم کے سر پر ایک کوٹھہ پتھروں کا جمع ہو گیا ( تذکرۃ الشہادتین روحانی خزائن جلد نمبر ۲۰ صفحه ۶ ۵ تا ۵۹) سید احمد نور کا بلی صاحب کا بیان ہے کہ جب حضرت شہید مرحوم کو سنگسار کرنے لے جایا جار ہا تھا تو ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگی ہوئی تھیں۔آپ راستہ میں تیزی تیزی اور خوشی خوشی جارہے تھے ایک مولوی نے پوچھا کہ آپ اتنے خوش کیوں ہیں ابھی آپ کو سنگسار کیا جانے والا ہے؟ آپ نے فرمایا یہ تھکڑیاں نہیں بلکہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کا زیور ہے اور مجھے یہ خوشی ہے کہ میں جلد اپنے پیارے مولا سے ملنے والا ہوں۔حضرت صاحبزادہ صاحب کو کابل کے باہر مشرقی جانب ہند و سوزان کے ایک میدان موسومہ یہ سیاہ سنگ میں سنگسار کیا گیا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ۱۲۲